سپریم کورٹ نے خواتین اساتذہ کو ان کی تعیناتی کی تاریخ سے پینشن اور دیگر سروس مراعات دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور خواتین اساتذہ کی اپیل منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سماعت کے دوران وکیل کوکب اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ ان خواتین اساتذہ کو 1998 میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا جبکہ محکمہ تعلیم نے انہیں 2009 میں ریگولرائز کیا۔
ان کے مطابق تعیناتی کی ابتدائی تاریخ سے پینشن مراعات دینا اساتذہ کا قانونی اور آئینی حق ہے۔
مزید پڑھیں: شوہر کے قتل پر سزا یافتہ خاتون کو سپریم کورٹ سے جزوی ریلیف مل گیا
وکیل نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے کیسز میں عدالت کی جانب سے تعیناتی کی تاریخ سے پینشن مراعات دینے کے فیصلے موجود ہیں، لہٰذا ان خواتین اساتذہ کے ساتھ بھی یہی اصول لاگو کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کرلی اور متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ خواتین اساتذہ کو ان کی ابتدائی تعیناتی کی تاریخ سے پینشن مراعات دی جائیں۔














