امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل ان کے رویے پر ناراضی کا اظہار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں یہ تبصرے کیے جو دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے چند گھنٹے پہلے نشر ہوئے۔ یہ ملاقات اس جنگ کے آغاز کے بعد پہلی تھی جس میں امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی تھی۔
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ نیتن یاہو ایران کے زیر زمین جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین سے متعلق مبینہ انٹیلی جنس معلومات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو امریکی صدر نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کا نک نیم استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بی بی کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو یہ معلومات اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں اس معاملے میں شامل رہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے کہا کہ تم نے یہ بات مجھے ہی کیوں نہیں بتائی، اس کا دنیا کے سامنے اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
مزید پڑھیے: امریکا کے پاس ایک ہزار سال کے لیے ایندھن موجود، چین کے پاس نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ پک ایکس کے معاملے میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات؎
نیتن یاہو سے ٹرمپ کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر کے لیے ایران کا معاملہ ایک نازک مرحلے میں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران 13 روزہ کشیدگی کے بعد ایک نئی سفارتی کوشش میں مصروف ہیں۔
تاہم، ٹرمپ نے متعدد بار دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف مزید حملے کرسکتا ہے جن میں پک ایکس ماؤنٹین اور ایران کا شہری انفرااسٹرکچر بھی شامل ہوسکتا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ایران امریکا کے معاہدے کی مخالفت کی تھی اور وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی حامی رہی ہے۔
امریکا میں نیتن یاہو کے کردار پر سوالات
امریکی میڈیا رپورٹس نے عوامی سطح پر یہ تاثر بھی بڑھایا ہے کہ نیتن یاہو ماضی میں کئی مواقع پر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی طرف لے جانے میں اثرانداز ہوئے ہیں جن میں گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ اور موجودہ پانچ ماہ سے جاری تنازع بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یہ جنگ امریکا میں پہلے ہی غیر مقبول رہی ہے جبکہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے کچھ حلقوں میں بھی اس پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے معاملے پر اختلافات کو کم اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا تھوڑا سا اختلاف ہے، لیکن ہم کافی قریب ہیں۔
ترکی کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر بھی اختلاف
ملاقات سے قبل ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے امریکا کے ترکی کے ساتھ ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام کی بحالی کی مخالفت پر بھی ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ ہم بہت سے ایسے ممالک کے ساتھ بھی بہت اچھا برتاؤ کر رہے ہیں جو ہمارے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کون ہمارے بغیر قائم نہیں رہ سکتا؟ اسرائیل۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی میزائل حملے، ٹرمپ کی ایران کو مزید فوجی کارروائی کی دھمکی
اگرچہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ اور خاص طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل پر تنقید کرتے دکھائی دیے ہیں لیکن امریکا کی اسرائیل کو مضبوط فوجی حمایت کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
نیتن یاہو کا مؤقف
نیتن یاہو نے ہفتے کے روز امریکی ٹی وی پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں کہا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ ایران کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم امریکا میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ امریکا کو مزید جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ایران کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ آگے بڑھنے کا فیصلہ بڑی حد تک ٹرمپ کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ شدید فوجی کارروائی دوبارہ شروع کیے بغیر یہ کام کرسکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی قسم کی نرمی کے لیے تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
نیتن یاہو نے کہا کہ کسی نہ کسی طرح انہیں اپنا جوہری پروگرام ختم کرنا ہوگا۔













