دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور اگرچہ جدید ادویات نے اس بیماری کو قابو میں رکھنا ممکن بنا دیا ہے لیکن اب تک اس کا مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ تاہم سائنسدانوں کی توجہ ایک ایسے نہایت نایاب گروہ پر مرکوز ہے جن کے جسم قدرتی طور پر ایچ آئی وی کو دبانے یا حتیٰ کہ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جو مستقبل میں ایچ آئی وی کے مستقل علاج کی کنجی ثابت ہو سکتے ہیں۔
’ایلیٹ کنٹرولرز‘ کون ہیں؟
ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے تقریباً 0.5 فیصد افراد ایک ایسے نایاب گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں سائنسدان ’ایلیٹ کنٹرولرز‘ کہتے ہیں۔ ان افراد کے جسم میں وائرس موجود ہوتا ہے لیکن وہ بغیر کسی دوا کے اس کی افزائش کو روکنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 20 ہزار ایچ آئی وی مریض ’لاپتا‘، 8 لاکھ ڈالر کی طبی امداد غائب
امریکا کی لورین ولن برگ ان ہی غیر معمولی افراد میں شامل تھیں۔ سنہ 1992 میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے باوجود انہوں نے کبھی اینٹی ریٹرووائرل ادویات استعمال نہیں کیں پھر بھی وائرس ان کے جسم میں فعال نہ ہو سکا اور وہ کئی دہائیوں تک معمول کی زندگی گزارتی رہیں۔
حیران کن انکشاف: وائرس کا کوئی نشان نہیں ملا

سال 2025 میں ایڈز سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں محققین نے اعلان کیا کہ لورین ولن برگ کے جسم میں اربوں خلیات کی جانچ کے باوجود ایچ آئی وی کا کوئی فعال نشان نہیں ملا۔
ہارورڈ اور ایم آئی ٹی سے وابستہ رگن انسٹیٹیوٹ کی پروفیسر شو یو نے کہا کہ ہم نے اربوں خلیات کا تجزیہ کیا لیکن وائرس کا کوئی قابلِ شناخت نشان نہیں ملا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ولن برگ کا مدافعتی نظام ممکنہ طور پر وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیے: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی
اسی طرح ارجنٹینا کی ایک خاتون جنہیں ’ایسپرانزا پیشنٹ‘ کہا جاتا ہے کو بھی ممکنہ طور پر قدرتی طور پر ایچ آئی وی سے نجات پانے والوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
عام طور پر ایچ آئی وی جسم میں کیا کرتا ہے؟
ایچ آئی وی جسم میں داخل ہونے کے بعد اپنے جینیاتی مواد کو انسانی خلیات کے ڈی این اے میں شامل کر دیتا ہے اور مدافعتی نظام کے اہم سفید خون کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔
اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری ایڈز میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے بعد جسم عام انفیکشنز کے خلاف بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
ایچ آئی وی اور ایڈز میں فرق
بعض لوگ ایچ آئی وی اور ایڈز کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں حالانکہ دونوں میں واضح فرق ہے۔ ایچ آئی وی (ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس) ایک وائرس ہے جو جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور اسے بتدریج کمزور بناتا ہے۔ تاہم کسی شخص میں ایچ آئی وی کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ اسے فوراً ایڈز بھی لاحق ہو جائے کیونکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے متاثرہ فرد کئی دہائیوں تک صحت مند اور معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ویکسین منظور، گولیوں کی جگہ اس کے استعمال سے پردہ داری زیادہ ممکن
دوسری جانب ایڈز (ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنسی سنڈروم) ایچ آئی وی انفیکشن کا آخری اور شدید مرحلہ ہے جو عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وائرس کا علاج نہ کیا جائے اور مدافعتی نظام بری طرح متاثر ہو جائے۔ جدید اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی بدولت آج دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور ایڈز کے مرحلے تک نہیں پہنچتے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ ہر ایڈز کا مریض ایچ آئی وی سے متاثر ہوتا ہے لیکن ہر ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص ایڈز کا مریض نہیں ہوتا۔
سال 1990 جب ادویات نے صورتحال تبدیل کردی
سنہ 1990 کی دہائی میں اینٹی ریٹرووائرل ادویات کی آمد نے صورتحال بدل دی اور لاکھوں جانیں بچائیں لیکن یہ ادویات عام طور پر وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتیں۔ وائرس جسم کے مختلف حصوں مثلاً خون، لمف نوڈز، دماغ اور آنتوں میں چھپ کر برسوں غیر فعال حالت میں موجود رہ سکتا ہے۔
ایلیٹ کنٹرولرز وائرس کو کیسے شکست دیتے ہیں؟
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایلیٹ کنٹرولرز کے جسم میں ’سی ڈی 8 پلس ٹی سیلز‘ نامی مدافعتی خلیات غیر معمولی طور پر طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ خلیات وائرس سے متاثرہ خلیات کو پہچان کر انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سنہ 2020 میں 64 ایلیٹ کنٹرولرز پر ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ان افراد کا مدافعتی نظام ایچ آئی وی کو ڈی این اے کے ایسے حصوں میں دھکیل دیتا ہے جنہیں ’جین ڈیزرٹس‘ کہا جاتا ہے۔
یہ جینوم کے وہ حصے ہوتے ہیں جہاں کوئی اہم حیاتیاتی سرگرمی نہیں ہوتی۔ نتیجتاً وائرس وہاں پھنس کر رہ جاتا ہے اور جسم کے خلیات کو ہائی جیک کر کے اپنی تعداد نہیں بڑھا پاتا۔
پروفیسر شو یو کے مطابق وائرس موجود تو ہوتا ہے لیکن ایسی جگہ قید ہوتا ہے جہاں وہ کچھ نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیے: چہرے کی خوبصورتی کے لیے کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کرانے والی 3 خواتین میں ایچ آئی وی منتقلی کی تصدیق
سائنسدان اسے ’فنکشنل کیور‘ یا عملی علاج کا خاکہ قرار دے رہے ہیں۔
ایک اور دلچسپ گروہ: پوسٹ ٹریٹمنٹ کنٹرولرز
محققین نے ایسے افراد کا بھی مطالعہ کیا ہے جنہیں پوسٹ ٹریٹمینٹ کنٹرولرز کہا جاتا ہے۔
یہ مریض ابتدا میں دوائیں استعمال کرتے ہیںؤ لیکن کئی برس بعد علاج بند کرنے کے باوجود وائرس دوبارہ فعال نہیں ہوتا۔
فرانس کے فرانس کے ’ویسکونٹی کوہورٹ‘ نامی گروہ میں شامل بعض افراد 20 سال سے زیادہ عرصے سے بغیر دوا کے ایچ آئی وی کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ ’ویسکونٹی کوہورٹ‘ سے مراد ایچ آئی وی کے ایسے مریضوں کا تحقیقاتی گروپ جو علاج بند کرنے کے بعد بھی وائرس پر قابو رکھنے میں کامیاب رہے۔
نیچرل کلر سیلز کا کردار
نئی تحقیقات سے ایک اور اہم مدافعتی ہتھیار سامنے آیا ہے جسے نیچرل کلر سیلز کہا جاتا ہے۔
یہ خلیات جسم کے پیدائشی دفاعی نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور وائرس سے متاثرہ خلیات کو فوری طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ویکسین منظور، گولیوں کی جگہ اس کے استعمال سے پردہ داری زیادہ ممکن
جنوبی افریقہ کی محقق کرسٹینا تھوباکگالے کے مطابق ایلیٹ کنٹرولرز میں یہ خلیات غیر معمولی طور پر متحرک ہوتے ہیں اور ممکنہ طور پر جسم کے ان حصوں میں بھی سرگرم رہتے ہیں جہاں ایچ آئی وی چھپ کر بیٹھا ہوتا ہے جیسے لمف نوڈز اور آنتیں۔
سائنسدان اب ایسے علاج اور ویکسینز پر کام کر رہے ہیں جو عام مریضوں میں بھی انہی خلیات کو متحرک کر سکیں۔
خواتین میں یہ صلاحیت زیادہ کیوں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلیٹ کنٹرولرز میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق خواتین میں ایچ آئی وی کے خلاف قدرتی مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں 2 سے 5 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: برطانیہ نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ترین دوا تیار کر لی
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے مدافعتی نظام میں موجود بعض قدرتی دفاعی خلیات وائرس کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایچ آئی وی کے علاج سے متعلق زیادہ تر تحقیق مردوں پر کی گئی ہے۔
مستقبل کی امید
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایلیٹ کنٹرولرز کے جسم میں موجود حیاتیاتی رازوں کو سمجھ کر ایسے علاج تیار کیے جا سکتے ہیں جو عام مریضوں کو بھی وائرس سے مستقل نجات دلانے میں مدد دیں۔
اگرچہ ابھی مکمل علاج دستیاب نہیں لیکن لورین ولن برگ اور دیگر ایلیٹ کنٹرولرز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی مدافعتی نظام بعض نایاب حالات میں ایچ آئی وی کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کے لیے قومی ایکشن پلان کا مطالبہ
ماہرین کے مطابق یہی حقیقت مستقبل میں ایچ آئی وی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔














