چیٹ جی پی ٹی اور جیمینائی میں عجیب خامی سامنے آگئی، صارفین حیران

پیر 8 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاق و سباق کو سمجھیں، غلطیوں کی نشاندہی کریں اور ایک قابل اعتماد ڈیجیٹل معاون کے طور پر کام کریں تاہم چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمینائی میں سامنے آنے والی ایک عجیب خامی نے ظاہر کیا ہے کہ یہ نظام بعض اوقات بنیادی حقیقت کو بھی درست طور پر نہیں پہچان پاتے۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی میں فائل لائبریری فیچر متعارف، اپ لوڈ فائلیں اب محفوظ رہیں گی

رپورٹس کے مطابق صارفین نے دریافت کیا کہ اگر چیٹ جی پی ٹی یا جیمینائی سے کسی خراب یا گم شدہ تصویر کو ’بحال‘ کرنے کی درخواست کی جائے لیکن اصل تصویر فراہم ہی نہ کی جائے تو دونوں نظام بعض اوقات خود ہی نئی تصاویر تخلیق کر دیتے ہیں۔ ان تصاویر کا کسی حقیقی تصویر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں نتائج غیر معمولی یا پریشان کن بھی ثابت ہوئے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مصنوعی ذہانت کی محقق اور آرٹسٹ کرس کاشتانووا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس خامی کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں دیگر صارفین نے بھی مثالیں شیئر کیں جن میں دونوں چیٹ بوٹس بغیر کسی اصل تصویر کے فرضی مناظر تخلیق کرتے دکھائی دیے۔

آزمائشی تجربات کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر چیٹ جی پی ٹی کو مکمل سفید یا خالی تصویر دی جائے تو وہ بعض اوقات اس کی بنیاد پر بالکل غیر متعلقہ تصاویر تیار کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ

دوسری جانب گوگل جیمینائی نے بعض حالات میں خالی تصویر واپس کی لیکن جب کوئی تصویر موجود نہ تھی تو اس نے بھی ازخود نئی تصاویر بنا دیں۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان چیٹ بوٹس سے ان تصاویر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بعد میں اعتراف کیا کہ درحقیقت کوئی تصویر بحال نہیں کی گئی بلکہ ایک خیالی منظر تخلیق کیا گیا تھا۔

چیٹ جی پی ٹی نے تسلیم کیا کہ اسے صارف کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ بحالی کے لیے کوئی اصل تصویری ڈیٹا موجود نہیں تھا جبکہ جیمینائی نے بھی اسی نوعیت کی وضاحت پیش کی۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے ایک اہم مسئلے یعنی ’ہیلوسینیشن‘ کی تازہ مثال ہے۔ ہیلوسینیشن سے مراد وہ صورتحال ہے جب کوئی اے آئی نظام حقیقی معلومات نہ ہونے کے باوجود اعتماد کے ساتھ ایسا جواب یا مواد تخلیق کر دیتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: گوگل کروم جیمینائی کے نئے فیچرز کے ساتھ مزید اسمارٹ ہوگیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خامی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بھی بعض اوقات غلط معلومات یا فرضی نتائج پیدا کر سکتے ہیں اور اکثر اپنی غلطی کی وضاحت صرف اس وقت کرتے ہیں جب ان سے بعد میں سوال کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp