ایلون مسک کی جانب سے اوپن اے آئی کے خلاف دائر کیے گئے 150 ارب ڈالر کے مقدمے میں اس ہفتے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں کمپنی کے اندرونی معاملات، قیادت کے اختلافات اور انتظامی بحران سے متعلق نئے انکشافات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت پر کنٹرول کی جنگ: ایلون مسک اور سیم آلٹمین عدالت میں آمنے سامنے
اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں جاری سماعت کے دوران اوپن اے آئی کی سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا موراتی نے بیان دیا کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین مختلف اعلیٰ عہدیداروں کو متضاد باتیں بتاتے تھے جس سے انتظامیہ کے اندر بداعتمادی پیدا ہوئی۔
میرا موراتی نے کہا کہ سنہ 2023 میں اوپن اے آئی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے سیم آلٹمین کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ضروری تھا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ صورتحال ’تباہ کن خطرے‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور کمپنی کا نظام مکمل طور پر بکھر سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ان کے مطابق سیم آلٹمین کے متضاد پیغامات نے اس کمپنی کی آپریشنل استحکام کو متاثر کیا جو دنیا کی بااثر ترین مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی ترقی کی قیادت کر رہی ہے۔
سماعت کے دوران بورڈ رکن شیون زیلس، جو اب ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک سے وابستہ ہیں، نے بھی بتایا کہ بورڈ نے بغیر مناسب مشاورت کے چیٹ جی پی ٹی کے اجرا پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اگرچہ چیٹ جی پی ٹی کے اجرا نے اوپن اے آئی کو غیرمعمولی کامیابی دلائی اور کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن تبدیل کر دی تاہم رپورٹس کے مطابق کمپنی کے اندر اس لانچ کے حوالے سے خاصی مخالفت بھی موجود تھی۔
مزید پڑھیں: سیم آلٹ مین نے اوپن اے آئی خریدنے کی ایلون مسک کی پیشکش ٹھکرادی
ایلون مسک، جو اوپن اے آئی کے بانیوں میں شامل رہے ہیں اور ابتدائی مالی معاونت بھی فراہم کر چکے ہیں، عدالت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارے کی حیثیت دی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی نے فلاحی مقصد کے ادارے سے مکمل تجارتی کمپنی میں تبدیل ہو کر عوام کو دھوکا دیا۔














