خواتین کے خلاف منظم امتیازی نظام، اقوامِ متحدہ میں طالبان حکومت پر شدید تنقید

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 8 جون 2026 کے اجلاس میں افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم اور ادارہ جاتی امتیاز پر مبنی نظام قرار دیا گیا۔

افغانستان جسٹس آرکائیو کی بانی میترا مہران نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور سماجی زندگی میں شرکت جیسے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے 230 سے زائد احکامات، ہدایات اور ضوابط نافذ کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف یورپ میں احتجاج، انسانی حقوق تنظیموں اور افغان شہریوں کی شدید مخالفت

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے نافذ کردہ ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے نظام کے تحت خواتین کی عوامی زندگی میں موجودگی کو محدود کیا گیا ہے، جبکہ ان کی آواز، چہرے اور سماجی کردار تک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ جنوری 2026 میں متعارف کرائے گئے نئے فوجداری ضابطہ کار نے خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کو مزید مضبوط کیا۔ مقررین کے مطابق اس قانونی ڈھانچے نے خواتین کی مساوی قانونی حیثیت کو محدود کیا اور معاشرتی و قانونی سطح پر مردانہ بالادستی کو تقویت دی۔

میترا مہران، افغان انسانی حقوق کارکن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی افغانستان ایڈووکیسی اسپیشلسٹ۔

میترا مہران نے کہا کہ طالبان حکومت صرف خواتین ہی نہیں بلکہ سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے خلاف بھی سخت پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق شیعہ اور اسماعیلی برادریوں کو بھی امتیازی سلوک اور سیاسی محرومی کا سامنا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے اور قریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں، جن میں ایک کروڑ سے زائد خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ اسی طرح 22 لاکھ سے زیادہ لڑکیاں اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔

مزید پڑھیں:افغان طالبان کی خواتین کے لباس پر دوبارہ سختی، مانتو پہننے والی خواتین کو ہراساں کیا جانے لگا

میترا مہران نے عالمی برادری پر زور دیا کہ طالبان حکومت کے ساتھ ایسے سیاسی اور سفارتی روابط سے گریز کیا جائے جو اس کے اقدامات کو جواز یا قانونی حیثیت فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود صورتحال انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی اصولوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

مبصرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کے حقوق، سیاسی آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال بدستور عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بحث میں تیزی آ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp