سپریم کورٹ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ضلع عدلیہ کے 2 ملازمین کی تنزلی اور محکمانہ سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے درخواستگزاروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’تم فساد کی جڑ ہو، تمہارا خانہ خراب ہو‘، جبکہ عدالت نے درخواستگزاروں کو وکیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:خواتین اساتذہ کو تعیناتی کی تاریخ سے پینشن ملے گی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزاروں سے استفسار کیا کہ وہ کس سکیل پر تھے اور ان کی تنزلی کی بنیاد کیا بنی۔
ایک درخواست گزار نے بتایا کہ وہ اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات تھا لیکن اسے تنزلی دے کر سینئر کلرک بنا دیا گیا۔ دوسرے درخواست گزار حسان چغتائی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ جونیئر کلرک تھا، اس کی سروس ضبط کر لی گئی اور ترقی بھی روک دی گئی۔
اس موقع پر ضلع عدلیہ کے اسٹاف افسر نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بھرتی کروانے کے لیے بے ضابطگی کی۔ ان کے مطابق حسان چغتائی نے اسسٹنٹ کے بھائی کی جگہ ٹائپنگ ٹیسٹ دیا تھا۔
اسٹاف افسر نے مزید بتایا کہ انکوائری رپورٹ میں حسان چغتائی نے اس عمل کا اعتراف بھی کیا اور معافی بھی مانگی تھی۔ ان کے مطابق ٹائپنگ ٹیسٹ کے دوران ایک ایڈیشنل سیشن جج نے ایک امیدوار کی غیر معمولی رفتار نوٹ کی، جس پر شک ہونے کے بعد دوبارہ اپنی موجودگی میں ٹیسٹ لیا گیا تو امیدوار کی ٹائپنگ اسپیڈ نمایاں طور پر کم نکلی۔
یہ بھی پڑھیں:شوہر کے قتل پر سزا یافتہ خاتون کو سپریم کورٹ سے جزوی ریلیف مل گیا
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے، ’وہ ڈر گیا ہوگا، جج بھی تو فرعون ہوتے ہیں‘۔
بعد ازاں عدالت نے حسان چغتائی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’تم دوسروں کی جگہ ٹیسٹ دیتے ہو، خود تم نے سی ایس ایس کیا ہے؟‘ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے، ’انکوائری کے دوران تم نے خود مانا کہ تم نے یہ جھک ماری ہے‘۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے بھی درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’شکر کریں کہ آپ سروس میں ہیں، ہم ہوتے تو آپ گھر جاتے‘۔
سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو قانونی معاونت حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔














