پاکسان کی معروف اداکارہ ہیرا ترین نے شوبز انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی نئے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل اس کی تمام شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض خفیہ اور پیچیدہ شقیں مستقبل میں فنکاروں کے پیشہ ورانہ حقوق، شناخت اور روزگار کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، جس پر فوری طور پر آواز اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ڈرامے کے معاہدے میں سنسنی خیز انکشاف
ہیرا ترین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ مارچ میں ایک ڈرامے کے معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ایک ایسی خطرناک شق نظر آئی جس کے تحت پروڈکشن ہاؤس اور ٹی وی چینل کو ان کی ‘ڈیجیٹل شناخت’ کے مکمل حقوق حاصل ہو جاتے۔
یہ بھی پڑھیں:شوبز کی چمک دمک اور شہرت عارضی، خاندانی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت اصل کامیابی ہے، فضیلہ قاضی
اداکارہ کے مطابق اس شق کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ تھا کہ ان کی آواز، چہرہ، حرکات و سکنات اور دیگر ذاتی خصوصیات کو نہ صرف مذکورہ منصوبے بلکہ مستقبل میں کسی بھی مقصد کے لیے اور غیر معینہ مدت تک استعمال کیا جا سکتا تھا اور اس کے لیے ان کی دوبارہ اجازت یا معاوضے کی ضرورت بھی نہ رہتی۔
پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے اس تشویشناک معاملے کو فوری طور پر پاکستانی اداکاروں کی نمائندہ تنظیم ’ایکٹرز کلیکٹو آف پاکستان‘ کے سامنے اٹھایا۔ تاہم، یہ معاملہ پاکستان کی شوبز تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، جس کی وجہ سے فوری طور پر اس کا کوئی واضح یا قانونی حل پیش کرنا مشکل تھا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس واقعے کے چند ہی ہفتوں بعد دیگر نامور اداکاروں کو بھی اسی نوعیت کے معاہدے موصول ہونا شروع ہو گئے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ انڈسٹری میں ایک منظم اور بڑھتا ہوا رجحان ہے۔
فنکاروں کی ضرورت بتدریج ختم ہونے کا ڈر
مصنوعی ذہانت کے شوبز پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہیرا ترین کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف پوسٹرز بنانے یا آواز کی ڈبنگ کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن بعد میں اسی کے ذریعے اداکاروں کی موجودہ ویڈیوز اور پرانی ریکارڈنگز کی مدد سے ان کے مکمل ‘ڈیجیٹل ماڈلز’ اور ‘ڈیجیٹل نقل’ تیار کر لیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پہلے کسی اداکار کو 20 مناظر کی شوٹنگ کے لیے سیٹ پر بلایا جاتا ہے، پھر مصنوعی ذہانت کی مدد سے صرف 10 مناظر کی ضرورت رہ جاتی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب اداکار کو سیٹ پر بلانے کی سرے سے ضرورت ہی نہ رہے اور اس کا ڈیجیٹل ہمزاد ہی سارا کام کر جائے۔
ہالی ووڈ کی تاریخی ہڑتال کا حوالہ
ہیرا ترین نے بین الاقوامی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہالی ووڈ میں سال 2023 میں فنکاروں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق انہی خدشات کے باعث مہینوں طویل تاریخی ہڑتال کی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں کی مضبوط یونین ‘اسکرین ایکٹرز گلڈ’ نے فنکاروں کے حقوق اور ان کی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانونی ضمانتیں حاصل کیں۔
مزید پڑھیں:’50 لوگوں کے سامنے مجھ پر چیخا گیا‘، عصمت زیدی نے شوبز انڈسٹری کا تلخ چہرہ بے نقاب کردیا
انہوں نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہالی ووڈ جیسی مضبوط یونینز موجود نہیں ہیں، جبکہ مقامی فنکار پہلے ہی معاوضوں کی تاخیر سے ادائیگی، کام کے نامساعد حالات اور رائلٹی کی عدم موجودگی جیسے بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں معاہدے کے اندر موجود ایک بظاہر معمولی نظر آنے والی شق بھی طویل مدت میں کسی بھی اداکار کے پورے کیریئر کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتی ہے۔
معاہدوں میں درج خطرناک اصطلاحات کی نشاندہی
اداکارہ نے تمام فنکار برادری کو مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے دیے جانے والے معاہدوں میں درج درج ذیل اصطلاحات پر خصوصی توجہ دیں اور ان کے ہوتے ہوئے دستخط ہرگز نہ کریں۔
‘ڈیجیٹل شناخت’، ‘ہمیشہ کے لیے حقوق’، ‘مصنوعی ذہانت کا تربیتی ماڈل’، ‘مصنوعی ذہانت سے متعلق کوئی بھی مبہم شق’، ‘ڈیجیٹل نقل’، ‘ملکیتی حقوق’، ‘مصنوعی کارکردگی’ اور ‘ملکیتی حقوق کی وسیع پیمانے پر منتقلی’۔
ہیرا ترین نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی معاہدے میں ایسی کوئی اصطلاح یا شق موجود ہو تو فنکار دستخط کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں، ‘ایکٹرز کلیکٹو آف پاکستان’ یا کسی ماہرِ قانون سے فوری مشورہ ضرور کریں۔














