آزاد کشمیر حکومت کا سخت فیصلہ، ایکشن کمیٹی سے متعلق واپس لی گئی ایف آئی آرز بحال، نوٹیفیکیشن جاری

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے متعلق احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات پر جاری سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لیتے ہوئے تمام درج شدہ سابقہ ایف آئی آرز دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے مختلف فوجداری عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات سے متعلق چار سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ 5 جون 2026 کو ہونے والے آزاد کشمیر کابینہ کے 41 ویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔

نوٹیفیکیشن کا عکس

واپس لیے گئے نوٹیفکیشنز میں نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/763-83/2024 مورخہ 7 دسمبر 2024، نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/227/2025 مورخہ 15 دسمبر 2025، نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/227-A/2025 مورخہ 26 دسمبر 2025 اور نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/1-227-A/2025 مورخہ 31 دسمبر 2025 شامل ہیں۔

اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے جے اے اے سی کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کر لی ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ تنظیم کے ساتھ نہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور نہ آئندہ کسی قسم کی بات چیت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے ساتھ لفظ ’آزاد‘ کا تحفظ پاکستان کر رہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ معاہدوں کے نتیجے میں واپس لی گئی ایف آئی آرز کو معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق جے اے اے سی کے خلاف درج 177 مقدمات، جو چند ماہ قبل مذاکرات کے بعد واپس لیے گئے تھے، ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی قانونی ذمہ داری تنظیم کی قیادت پر عائد کی گئی ہے، جبکہ ریاست نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

حکام نے مزید کہا کہ اب مذاکرات کا کوئی راستہ موجود نہیں اور متعلقہ افراد کو ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تازہ پیش رفت کو حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے جے اے اے سی کے خلاف اب تک کا سخت ترین مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد خطے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال میں مزید کشیدگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp