وفاقی بجٹ 27-2026 میں سماجی تحفظ اور فلاحی منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں اضافہ کرتے ہوئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اس پروگرام کے لیے مختص 716 ارب روپے کے مقابلے میں 122 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر حکومت کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان حکومت کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان بیت المال کے لیے آئندہ مالی سال میں 10 ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے لیے 110 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسپائر ویمن بینیفٹ پروگرام کے لیے 2.9 ارب روپے کی رقم برقرار رکھی گئی ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور دستاویزات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 65 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سیکیورٹی انہانسمنٹ کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے لیے ایک ارب روپے اور فصل قرض انشورنس اسکیم کے لیے بھی ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
لائیو اسٹاک انشورنس اسکیم کے لیے 700 ملین روپے جبکہ غریب اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے پروگرام کے لیے 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے کم ترقی یافتہ علاقے اور خطے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں، اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ان علاقوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملک کے تمام علاقوں میں متوازن ترقی پر یقین رکھتی ہے اور پسماندہ خطوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔














