عام طور پر جنگوں اور عالمی بحرانوں کے دوران سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ سمجھتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن ایران تنازع کے دوران صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلند شرحِ سود، مضبوط امریکی ڈالر اور مہنگائی کے خدشات نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
Why is the price of gold trending down?
Gold has been under pressure since the US and Israel launched a war against Iran in late February.
Read more: https://t.co/SapjgGpL1k pic.twitter.com/VpjkbuFreQ
— Raw feed news (@Rawfeednews) June 14, 2026
الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے سونے کی قیمت مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 28 جنوری کو سونا فی اونس 5 ہزار 303 ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھا جو حالیہ دنوں میں کم ہو کر تقریباً 4 ہزار 235 ڈالر فی اونس تک آ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کار اب یہ توقع کر رہے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک شرحِ سود میں کمی کے بجائے اسے بلند رکھ سکتے ہیں یا مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا، جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور عالمی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح بھی کئی برسوں کی بلند سطح پر پہنچ گئی، جس نے شرحِ سود میں فوری کمی کے امکانات کم کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں:سونا امریکی بانڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بن گیا
مالیاتی ماہرین کے مطابق سونا ایسی سرمایہ کاری ہے جو باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتی، اس لیے جب شرحِ سود زیادہ ہو تو سرمایہ کار ڈالر اور دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اس صورتحال میں مضبوط امریکی ڈالر بھی سونے کے لیے منفی عنصر بن جاتا ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے، جو طویل مدت میں سونے کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم شرحِ سود اور ڈالر کی صورتحال مستقبل میں قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔














