سونا امریکی بانڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بن گیا

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سونا امریکی ڈالرز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریرزو اثاثہ بن گیا ہے۔

یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ اور انتہائی اہم رپورٹ کے مطابق، سونا امریکی سرکاری بانڈز (ٹریژریز) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا اور اہم ترین ریزرو اثاثہ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا اب کتنے کا ہو گیا؟

عالمی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل بڑے پیمانے پر خریداری اور گزشتہ دو سالوں کے دوران قیمتوں میں ہونے والے ریکارڈ توڑ اضافے کے باعث پوزیشن میں یہ تاریخی تبدیلی آئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے اختتام تک دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے مجموعی ریزرو اثاثوں میں سونے کا حصہ بڑھ کر 27 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس سے پچھلے سال 20 فیصد تھا۔

 اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران امریکی ٹریژریز کا حصہ 25 فیصد سے گر کر 22 فیصد پر آگیا ہے، جس سے ڈالر کے مقابلے میں سونے کی عالمی مقبولیت واضح ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطاب عالمی سطح پر آنے والے اس بڑے بدلاؤ کی ایک بنیادی وجہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے امریکی ڈالر پر اپنا انحصار کم کرنے کی دانستہ کوششیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سونا سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ

 اس رجحان میں خاص طور پر سال 2022 میں اس وقت تیزی آئی جب واشنگٹن نے یوکرین تنازع کے ردعمل میں روس کے غیر ملکی ڈالر کے ذخائر کو منجمد کر دیا تھا۔

 یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لگارڈ نے رپورٹ میں اس حوالے سے خصوصی طور پر لکھا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

 اس وقت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس سونے کے ذخائر 36 ہزار ٹن سے تجاوز کرچکے ہیں، جو کہ عالمی مالیاتی تاریخ کے مشہور ’بریٹن ووڈز‘ کے دور کے بعد سب سے بڑی سطح ہے۔ سال 2022 سے اب تک چین، پولینڈ، ترکیہ اور بھارت سونے کے سب سے بڑے خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔

تاہم یورپی مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ سونے کا دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بنے رہنے کا یہ موجودہ تسلسل طویل مدت کے لیے پائیدار نہیں لگتا۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ دریافت

 ای سی بی کا کہنا ہے کہ بڑی فیاٹ کرنسیوں (کاغذی نوٹوں) کے مقابلے میں سرکاری ریزرو اثاثے کے طور پر سونے کی اپنی چند مخصوص حدود اور خامیاں ہیں، کیونکہ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ای سی بی کے مطابق سونے کے بینکوں میں ذخائر پر کوئی منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا، اور جب اسے مادی یا فزیکل شکل میں رکھا جائے تو اس کی اسٹوریج اور حفاظت کے اخراجات انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید برآںؤ سونے کی عالمی سپلائی لچکدار نہیں ہے اور بین الاقوامی سطح پر نقدیکی فوری طلب کے مطابق اس کی رسد کو یکدم تبدیل یا ایڈجسٹ نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان تمام تر حدود کے باوجود موجودہ عالمی سیاسی حالات نے سونے کو دنیا کی پہلی ترجیح بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب