انتخابی شیڈول آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی وضاحت

اتوار 14 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر انتخابات کے شیڈول کے اجرا سے متعلق گردش کرنے والے تبصروں اور تاثرات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی شیڈول کا اجرا مکمل طور پر آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا اور اسے کسی بھی قسم کی بدنیتی یا مخصوص مقصد سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔

آئین کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازم

ترجمان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 22(4) کے تحت قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات اسمبلی کی آئینی مدت کے اختتام سے قبل 60 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہیں، جبکہ انتخابی نتائج اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے کم از کم 14 روز قبل جاری کیے جانا ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 3 اگست 2021 کو منعقد ہوا تھا، لہٰذا الیکشن کمیشن پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کرے۔

انتخابی مراحل کے لیے مقررہ قانونی اوقات

ترجمان نے کہاکہ الیکشنز ایکٹ 2020 کے تحت انتخابی عمل کے مختلف مراحل کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ بالخصوص دفعہ 23(3) کے مطابق پولنگ کے دن سے کم از کم 15 روز قبل سرکاری گزٹ میں پولنگ اسٹیشنوں کی حتمی فہرست شائع کرنا قانونی تقاضا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ کاغذاتِ نامزدگی کے اجرا اور وصولی، ان کی جانچ پڑتال، اپیلوں کی سماعت، انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ، بیلٹ پیپرز کی طباعت اور دیگر قانونی و انتظامی مراحل کے لیے بھی مناسب وقت درکار ہوتا ہے، اسی لیے انتخابی شیڈول آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جاتا ہے۔

شیڈول کسی کے لیے غیر متوقع نہیں تھا

ترجمان کے مطابق اسمبلی کی آئینی مدت، انتخابات کے متوقع انعقاد اور انتخابی شیڈول کے اجرا کا عمومی ٹائم فریم تمام سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے علم میں تھا، اس لیے شیڈول کا اجرا کسی بھی فریق کے لیے غیر متوقع اقدام نہیں تھا بلکہ یہ ایک متوقع اور قانونی عمل تھا۔

شیڈول کے اجرا میں تاخیر کیوں ہوئی؟

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور انتخابی شیڈول 18 مئی 2026 کو جاری کیا جانا متوقع تھا، تاہم بعض اسٹیک ہولڈرز نے موجودہ حالات کے پیش نظر شیڈول کے اجرا کو 18 مئی سے 24 مئی 2026 تک مؤخر کرنے کا مشورہ دیا۔

ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے متعلقہ فریقوں کی آرا اور حالات کے احترام میں 24 مئی کو بھی انتخابی شیڈول جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور صورتحال کا مزید جائزہ لیتا رہا، جبکہ اس فیصلے کی کوئی تشہیر بھی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں آئین اور الیکشنز ایکٹ کے مطابق 5 جون 2026 کو انتخابی شیڈول جاری کر دیا گیا۔

بدنیتی کا تاثر حقائق کے منافی قرار

ترجمان نے کہاکہ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ الیکشن کمیشن نے کسی خاص مقصد یا بدنیتی کے تحت انتخابی شیڈول جاری کیا۔

ان کے مطابق شیڈول کا اجرا کسی سیاسی یا دیگر عوامل کی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ خالصتاً آئینی و قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئینی اداروں کے اقدامات اور فیصلوں کو بلاجواز قیاس آرائیوں، مفروضوں یا غیر متعلقہ عوامل سے جوڑنا مناسب نہیں۔

آزادانہ اور شفاف انتخابات کے عزم کا اعادہ

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں مکمل دیانت داری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ ادا کرتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مزید کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ

بنگلہ دیشی کسان کا جرمنی سے عشق، 7 کلومیٹر طویل پرچم لہرا دیا، وجہ انتہائی انوکھی!

کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج چھوڑ کر جانے والوں کو دھمکانے لگی، پولیس نے بڑا اعلان کردیا

کھیل میں بھی سیاست، ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں