امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، وزیراعظم شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کردی

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل سفارتی کوششوں اور مسلسل مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

وزیراعظم نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگی سرگرمیاں بند کردی جائیں گی جبکہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں کیے جائیں گے۔

شہباز شریف نے معاہدے کو ممکن بنانے میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطری قیادت کی ثالثی اور سفارتی کوششوں نے فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی دور اندیش قیادت اور نمایاں سفارتی کاوشوں نے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔

وزیراعظم کے مطابق معاہدے کے بعد ثالثی کرنے والے ممالک اس ہفتے متعدد ملاقاتوں کا اہتمام کریں گے، جن میں ابتدائی تکنیکی مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ضروری امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہوچکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔Twi

ایک اور بیان میں امریکی صدر نے اس معاہدے کو خطے کے لیے امن اور استحکام کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے کئی امریکی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہے، تاہم موجودہ کوششوں نے ایک تاریخی پیش رفت کو ممکن بنا دیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک مزید جامع معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے، جس میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور دیگر اہم معاملات شامل ہوں گے۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بھی تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کئی ماہ سے کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر پابندیوں کے باعث عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں نے ایسے حالات پیدا کیے جن کی بدولت یہ اہم پیش رفت ممکن ہو سکی۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ضروری ہے، جبکہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے جاری کشیدگی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

اس دوران ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ مجوزہ امریکا ایران معاہدے کا فریق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

غلافِ کعبہ تبدیل، نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث

فیفا ورلڈ کپ: یوراگوئے، ایران اور بیلجیئم کو افتتاحی میچوں میں ڈراز کا سامنا

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ