وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل سفارتی کوششوں اور مسلسل مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
وزیراعظم نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگی سرگرمیاں بند کردی جائیں گی جبکہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں کیے جائیں گے۔
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 14, 2026
شہباز شریف نے معاہدے کو ممکن بنانے میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطری قیادت کی ثالثی اور سفارتی کوششوں نے فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی دور اندیش قیادت اور نمایاں سفارتی کاوشوں نے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔
وزیراعظم کے مطابق معاہدے کے بعد ثالثی کرنے والے ممالک اس ہفتے متعدد ملاقاتوں کا اہتمام کریں گے، جن میں ابتدائی تکنیکی مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ضروری امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہوچکا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔Twi
“The Deal with Islamic Republic of Iran is now complete. Congratulations to all!” President Donald J. Trump 🇺🇸 pic.twitter.com/RdSwyEdEtO
— The White House (@WhiteHouse) June 14, 2026
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے اس معاہدے کو خطے کے لیے امن اور استحکام کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے کئی امریکی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہے، تاہم موجودہ کوششوں نے ایک تاریخی پیش رفت کو ممکن بنا دیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک مزید جامع معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے، جس میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور دیگر اہم معاملات شامل ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بھی تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کئی ماہ سے کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر پابندیوں کے باعث عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔
We welcome the agreement reached on the Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. We extend our thanks to our brothers in the Islamic Republic of Pakistan, as well as to all regional and international parties that…
— محمد بن عبدالرحمن (@MBA_AlThani_) June 14, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں نے ایسے حالات پیدا کیے جن کی بدولت یہ اہم پیش رفت ممکن ہو سکی۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ضروری ہے، جبکہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔
My statement on today's agreement between the United States and Iran. pic.twitter.com/taQZufv7ij
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) June 14, 2026
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے جاری کشیدگی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔
اس دوران ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ مجوزہ امریکا ایران معاہدے کا فریق نہیں ہے۔














