وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے پاکستان کی عزت، وقار اور سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس اہم کامیابی پر یومِ تشکر بھی منایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم، ثالثی کی پاکستانی کوششیں قابل ستائش قرار
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک بھر میں یکساں ترقی اور عوامی فلاح کے وژن پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت اسی مقصد کے تحت تمام علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ 26 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت متعدد مطالبات پر عملدرآمد کیا گیا اور مقدمات و ایف آئی آرز کے خاتمے سمیت کئی اقدامات اٹھائے گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کو محض کسی کمرے میں بیٹھ کر ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان نشستوں کو آزاد جموں و کشمیر کے آئین میں تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پرامن سیاسی جدوجہد کے بجائے پرتشدد احتجاج کا راستہ اختیار کیا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر، عالمی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہے، وزیر خزانہ
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑی شاہراہوں اور دیگر میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ تشدد کا راستہ ترک کیا جائے، دھرنا ختم کیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔














