چین میں نوجوانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد جذباتی سہارا اور حوصلہ افزائی کے لیے سوشل میڈیا پر موجود ایسے جوڑوں کی جانب متوجہ ہو رہی ہے جو خود کو ان کے ’ورچوئل والدین‘ (مجازی والدین) کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کی نئی یو ایف او فائلز منظر عام پر، پراسرار چمکتے گولوں کے انکشاف نے توجہ حاصل کر لی
ان ویڈیوز میں یہ جوڑے نوجوانوں سے محبت بھرے انداز میں بات کرتے ہیں، ان کی کامیابیوں کو سراہتے ہیں اور انہیں زندگی کے دباؤ سے گھبرانے کے بجائے خود پر اعتماد رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
شنگھائی سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ٹیکنالوجی ورکر ونسنٹ ژانگ بھی ایسے ہی لاکھوں نوجوانوں میں شامل ہیں۔ وہ اکثر کھانے کے دوران اپنے موبائل فون پر ایک مشہور جوڑے کی ویڈیوز دیکھتے ہیں جو اپنے فالوورز کو ’بیٹا‘ اور ’بیٹی‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔
ونسنٹ کا کہنا ہے کہ ان کے حقیقی والدین اکثر ان کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں جبکہ ورچوئل والدین انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ جیسے ہیں ویسے ہی کافی اچھے ہیں۔
چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ڈوئین پر پان ہوچیان اور ژانگ شیوپنگ نامی جوڑے کے تقریباً 20 لاکھ فالوورز ہیں۔
ان کی ویڈیوز میں وہ نوجوانوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ تھک گئے ہیں، کیا وہ خوش ہیں اور انہیں خود پر زیادہ دباؤ نہ ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے فالوورز اکثر انہیں ’ماں‘ اور ’باپ‘ کہہ کر اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل شیئر کرتے ہیں اور ان سے دعائیں اور مشورے طلب کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
پان ہوچیان کے مطابق وہ خود بھی ایک مشکل بچپن سے گزرے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 14 سال کی عمر میں انہیں گھر کا خرچ اٹھانے کے لیے کام کرنا پڑا کیونکہ ان کی والدہ معذور ہو گئی تھیں۔
ان کے بقول والدین کی جانب سے حوصلہ افزائی نہ ملنے کا درد وہ بخوبی سمجھتے ہیں اس لیے وہ اپنی ویڈیوز میں نوجوانوں کو وہ محبت اور اعتماد دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کی انہیں خود کمی محسوس ہوئی۔
ماہرین کے مطابق چین میں نوجوان نسل شدید مسابقت، معاشی دباؤ اور خاندانی توقعات کے بوجھ تلے زندگی گزار رہی ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، بہتر کارکردگی کی مسلسل دوڑ اور والدین کی بلند توقعات نے بہت سے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں سوشل میڈیا پر ملنے والی ہمدردی اور حوصلہ افزائی انہیں وقتی سکون فراہم کرتی ہے۔
چین میں نوجوانوں کی بے چینی اور والدین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر مزاحیہ میمز اور ویڈیوز بھی مقبول ہو چکی ہیں۔
بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کے والدین اکثر ان کی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر فیصلے کو ان کی بھلائی کے نام پر درست قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: باپ بننے پر مرد کے جسم میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟
28 سالہ ژاؤ شوان کہتی ہیں کہ والدین کی مسلسل تنقید اور مشوروں سے تنگ آ کر انہوں نے خاندان کے گروپ چیٹ کو خاموش کر دیا ہے۔
ان کے مطابق وہ اب اس رویے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مزاح کے انداز میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو سکے۔
دوسری جانب ونسنٹ کا کہنا ہے کہ ورچوئل والدین کی ویڈیوز انہیں بچپن کی ان یادوں میں لے جاتی ہیں جب وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارا کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ یہ مواد ایک کاروبار بھی بن چکا ہے لیکن اگر کچھ گرمجوشی اور محبت مل رہی ہے تو یہ بالکل نہ ملنے سے بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورچوئل والدین کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دور میں نوجوان صرف معاشی استحکام ہی نہیں بلکہ جذباتی حمایت اور قبولیت بھی تلاش کر رہے ہیں خواہ وہ انہیں حقیقی زندگی میں ملے یا ڈیجیٹل دنیا میں۔













