بجٹ27-2026: قائمہ کمیٹیوں نے ایف بی آر کے اہداف، نئے ٹیکسوں اور ریٹیلر اسکیم پر تحفظات ظاہر کردیے

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ و محصولات نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے محصولات کے بلند اہداف، نئے ٹیکس اقدامات اور مجوزہ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پر مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی زور محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام پر ہے، جبکہ اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے محدود اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: ای سگریٹ اور ویپ مصنوعات پر ٹیکس میں بڑا اضافہ، قیمتیں بڑھنے کا امکان

کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ماضی میں بھی محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے، اس کے باوجود مالی سال 2026-27 کے لیے 15.26 کھرب روپے کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ رواں مالی سال میں تقریباً 13 کھرب روپے کی وصولیوں کے بعد اضافی محصولات کا ہدف کس حد تک قابلِ عمل ہوگا۔

اجلاس کے دوران اراکین نے اس امر پر بھی تحفظات ظاہر کیے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے بنیادی اور ساختی اصلاحات کے بجائے نفاذی اقدامات پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق محصولات میں اضافے کے لیے صرف انتظامی اور نفاذی اقدامات دیرپا حل ثابت نہیں ہو سکتے۔

کمیٹی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ایک جانب عوام سے مزید ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ترقیاتی اور سرکاری اخراجات محدود کیے جا رہے ہیں، جس سے اقتصادی سرگرمیوں اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے وفاقی اخراجات کے ڈھانچے کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی رقم آٹھ کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ اب بھی حکومتی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اراکین نے قرضوں کے بہتر انتظام اور قرض لینے کی لاگت کم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے کو کتنا ریلیف ملا؟ ٹیکس کی شرح میں بڑی کمی

اجلاس میں بجٹ میں شامل ٹیکس پالیسی اقدامات، جن میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، بعض کسٹمز ڈیوٹیوں میں کمی، برآمد کنندگان کے لیے مراعات اور پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اصلاحات شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا گیا۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی نے خاص طور پر چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ریٹیلر ٹیکس اسکیم پر تحفظات ظاہر کیے۔ اراکین کے مطابق اس اسکیم سے ٹیکس نظام میں بگاڑ پیدا ہونے، معمول کے ٹیکس نظام کے تحت تعمیل کی حوصلہ شکنی ہونے اور موجودہ ٹیکس بنیاد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں بھی بجٹ تجاویز اور ایف بی آر کی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے، جبکہ سینیٹر شیری رحمان نے ایف بی آر کی جانب سے محصولات کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے۔

سینیٹ کمیٹی نے ٹیکس پالیسی سازی کو ٹیکس وصولی سے الگ کرنے کے لیے قائم کیے گئے ٹیکس پالیسی آفس کو ایک اہم اصلاح قرار دیا، تاہم اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں میں تسلسل، کاروباری برادری سے مشاورت اور ٹیکس نظام میں اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مجموعی طور پر دونوں قائمہ کمیٹیوں نے حکومت کی مالیاتی استحکام کی حکمتِ عملی کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ٹیکس بنیاد میں وسعت، اخراجات کی بہتر کارکردگی، مؤثر قرض انتظام اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔

 دونوں کمیٹیوں کے مزید اعتراضات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سید نوید قمر نے بجٹ میں دی گئی مختلف ٹیکس رعایتوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا مجوزہ مراعات سے ہونے والے ریونیو خسارے کا مکمل تخمینہ لگایا گیا ہے اور حکومت اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی رکھتی ہے۔

کمیٹی نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، آئی ٹی سیکٹر کے لیے مراعات اور ان اقدامات کے حقیقی سرمایہ کاری اور برآمدات پر اثرات پر بھی وضاحت طلب کی۔ ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض مراعات سے معاشی سرگرمی کے بجائے قیاس آرائی کو فروغ مل سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی نے مجوزہ فیس لیس آڈٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس نظام کے تحت ٹیکس دہندگان کے حقوق، شفافیت، قانونی تقاضوں اور ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق تحفظات بھی سامنے رکھے اور وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو مالی اثرات کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ کیسے منظور ہوتا ہے؟

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی بجٹ تجاویز کا شق وار جائزہ لیتے ہوئے متعدد ٹیکس اصلاحات اور ان کے مالی اثرات پر سوالات اٹھائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سپر ٹیکس کی چھوٹ کی حد 500 ملین روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کرنے سے تقریباً 250 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہو سکتا ہے۔

سینیٹ کمیٹی نے ٹیکس اصلاحات، صنعتی شعبے کی مشکلات، ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس سے متعلق تجاویز پر تفصیلی غور کیا اور زور دیا کہ تمام ٹیکس اقدامات شفاف، پائیدار اور شواہد پر مبنی ہونے چاہییں۔

پارلیمانی کمیٹیوں کے ان اعتراضات نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کو بجٹ میں دی گئی ٹیکس رعایتوں اور اصلاحاتی اقدامات کے مالی اور معاشی اثرات پر مزید وضاحت دینا ہوگی، جبکہ فنانس بل کی منظوری سے قبل کئی تجاویز مزید جانچ پڑتال سے گزریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp