پاکستان رواں سال ستمبر میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے، جبکہ اگلے سال ہونے والے سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان ہی کرے گا۔
بیجنگ میں تنظیم کے 25ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی امن، سلامتی، اقتصادی تعاون اور روابط کے فروغ میں ایس سی او کے کلیدی کردار کو سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او کے قیام کی 25ویں سالگرہ: پاکستان مشترکہ ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا رہے گا، اسحاق ڈار
انہوں نے واضح کیا کہ 2017 میں مستقل رکن بننے کے بعد سے پاکستان نے خطے میں ہمیشہ ایک فعال اور تعمیری کردار ادا کیا ہے جو عالمی سطح پر اس کی قیادت پر اعتماد کا مظہر ہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان اس وقت 2025-26 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (ریاٹس) کی صدارت بھی کررہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان غربت کے خاتمے سے متعلق ایس سی او کے ورکنگ گروپ کا مستقل چیئرمین ہے، جو علاقائی سطح پر عوامی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
🔊 PR No. 144/2026
Message from the Deputy Prime Minister and Foreign Minister of Pakistan Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 on the 25th Anniversary of the Shanghai Cooperation Organization (SCO)
🔗⬇️ pic.twitter.com/fvmh94pyl6
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 15, 2026
اسحاق ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو علاقائی تجارت اور معاشی انضمام کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تنظیم کے مشترکہ فریم ورک کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم، کب کیا ہوا؟
شنگھائی تعاون تنظیم کا آغاز 2001 میں بنیادی طور پر ایک سیکیورٹی گروپ کے طور پر ہوا تھا، جو اب تجارت اور اقتصادی ترقی کے ایک بڑے فورم میں تبدیل ہوچکا ہے۔
اس تنظیم میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت 10 مستقل ارکان شامل ہیں، جبکہ افغانستان اور منگولیا کو مبصر کا درجہ حاصل ہے۔
واضح رہے کہ کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا رواں سال کا سربراہی اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہوگا، جس کے بعد صدارت باقاعدہ طور پر پاکستان کے سپرد کردی جائے گی۔














