کیا ’مخصوص دنوں‘ میں خواتین درد کش دوا کا درست انتخاب کرتی ہیں؟

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایام مخصوصہ کے دوران درد سے نجات کے لیے بہت سی خواتین سب سے مؤثر دوا کا انتخاب نہیں کرتیں اور زیادہ تر خواتین درد کش ادویات میں پیراسیٹامول خریدتی ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق آئبوپروفین اکثر ماہواری کے درد میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اینڈومیٹریوسس: خواتین کی تکلیف دہ بیماری کی اب تشخیص جلد ممکن

بی بی سی کے مطابق انگلینڈ میں ایک بڑے ریٹیل اسٹور چین کے لائلٹی کارڈ ڈیٹا کا جائزہ لینے پر محققین نے  سنہ 2006 سے سنہ 2015 کے درمیان 21 کروڑ سے زائد خریداریوں کا تجزیہ کیا۔

تحقیق کے دوران 34 لاکھ خریداروں کی خریداریوں کا مطالعہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خواتین مخصوص ایام کے دوران درد سے نجات کے لیے کون سی ادویات استعمال کرتی ہیں۔

تحقیق، جو طبی جریدے پی ایل او ایس ڈیجیٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی، کے مطابق مخصوص ایام سے متعلق مصنوعات کی تقریباً نصف خریداریوں کے ساتھ درد کش ادویات بھی خریدی گئیں۔ ان میں تقریباً 2 تہائی ادویات پیراسیٹامول پر مشتمل تھیں جبکہ ایک تہائی خریداریوں میں آئبوپروفین شامل تھی۔

ماہرین کے مطابق پیراسیٹامول درد کم کرنے میں مؤثر دوا ہے تاہم ماہواری کے درد کے معاملے میں آئبوپروفین اکثر زیادہ فائدہ دیتی ہے کیونکہ یہ جسم میں ’پروسٹاگلینڈنز‘ نامی کیمیائی مادوں کی پیداوار کو کم کرتی ہے۔ یہی مادے رحم کے پٹھوں میں سکڑاؤ پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ماہواری کے درد اور اینٹھن محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: چُپ کی عمر: دیہی خواتین اور سن یاس کے گرد پھیلی خاموشی

دوسری جانب پیراسیٹامول بنیادی طور پر دماغ میں درد کے سگنلز کو کم کرتی ہے اسی لیے یہ سر درد اور بخار جیسی علامات میں زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے لیکن اس میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات موجود نہیں ہوتیں۔

برسٹل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق ڈاکٹر انیا اسکاٹووا کے مطابق یہ تحقیق پورے ملک کی مکمل نمائندگی تو نہیں کرتی تاہم اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ خواتین مخصوص کے درد کے لیے کس قسم کی ادویات خرید رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر مخصوص کے دوران درد رحم کے پٹھوں کے سکڑاؤ کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے لیکن بعض خواتین میں پروسٹاگلینڈنز کی زیادہ مقدار شدید درد کا باعث بن سکتی ہے۔

ناٹنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز گولڈنگ کے مطابق مخصوص کے درد اور اس کے علاج کے حوالے سے عوامی آگاہی کی ضرورت ہے جبکہ اس موضوع پر مزید تحقیق بھی درکار ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹری پیڈز پر بھاری ٹیکس کیخلاف لاہور کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کسی خاتون کو شدید درد ہو جو روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہو تو اسے ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات یہ اینڈومیٹریوسس یا رحم میں رسولیوں (فائبرائڈز) جیسی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آئبوپروفین ہر فرد کے لیے موزوں نہیں ہوتی اور کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے اس کی ہدایات اور ممکنہ مضر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بجٹ 27-2026:  خواتین سے متعلق ضروری مصنوعات سستی کرنے کی تجویز

واضح رہے کہ مندرجہ بالا 2 دواؤں کے نام طبی یا جنیرک ہیں کمپنیز کے برانڈ نیم نہیں جس سے کسی مخصوص کمپنی یا برانڈ کی تشہیر نہیں ہوتی۔ تاہم یہ قارئین ان ادویات کو بآسانی پہچان سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp