ایران امریکا امن معاہدے کا اعلان ہوا تو سارا منظر سورہ رحمان کی تفسیر میں ڈھل گیا ’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے‘۔
یہ کوئی جذباتی بات نہیں ہے۔ زمینی حقائق کی جمع تفریق بتا رہی ہے کہ پاکستان نے صرف جنگ بندی نہیں کروائی بلکہ پاکستان نے تاریخ کے دھارے کا رخ بھی بدل دیا ہے۔ یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ شاید ہم میں سے اکثر کو خود ابھی تک اس کامیابی کے حجم کا اندازہ نہیں۔
بالوں میں سفیدی آ چکی ہے، جذباتیت اور مبالغے سے یہ آگے کی عمر ہے لیکن اس کے باوجود کہنے دیجیے کہ یہ پاکستانی تاریخ کا وہ باب ہے، جب جب مؤرخ اسے لکھے گا، حیرت اس کے قلم سے لپٹ جائے گی۔
یہ آسان کام نہ تھا۔ ایک جانب امریکا اور اسرائیل ایران پر حملہ آور تھے اور بڑی بڑی قوتیں سہمی پڑی تھیں یا عملا لاتعلق ہو چکی تھیں لیکن ایک اور خطرہ اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ اسرائیل کی کوشش یا شاید اصل منصوبہ یہ تھا کہ اس جنگ کو ایران اور سعودی عرب کی جنگ میں بدل دیا جائے۔ ایسا ہو جاتا تو اسلامی تہذیب آپس میں لڑ لڑ کر گھائل ہو جاتی اور اسرائیل تماشا دیکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘
بظاہر منصوبہ مکمل تھا لیکن پھر یوں ہوا کہ پاکستان اس منصوبے کی راہ میں حائل ہو گیا۔ پاکستان سمجھ چکا تھا کہ اصل کھیل کیا ہے۔ پاکستان نے اس کھیل کو الٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ حالات سازگار نہ تھے، مسائل بھی بہت تھے، پریشانیاں بھی کم نہ تھیں ، دباؤ بھی اعصاب شکن تھا، صرف پرائے ہی نہیں، اپنوں میں سے بھی کچھ طعنہ زن تھے۔ لیکن پاکستان کو معلوم تھا ، اس کے پاس ناکام ہونے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسے ہر صورت کامیاب ہونا تھا ورنہ مسلم دنیا ایک خوفناک تباہی سے دوچار ہونے جا رہی تھی۔ پاکستان یکسوئی کے ساتھ ڈٹا رہا کہ اس کو نظر آ رہا ہے مسلم دنیا کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی ناکامی کا مطلب تہذیب اسلامی کا گھائل ہونا ہے۔
آپ پاکستان کی کامیابی دیکھیے، اس نے ایک ایسا منصوبہ اپنی شاندار سفارت کاری سے الٹ دیا جسے نیتن یاہو اور اس کے فیصلہ سازوں نے جانے کتنا وقت لگا کر ترتینٓب دیا ہو۔
اس میں سعودی عرب کا کردار بھی غیر معمولی تھا۔ جس تحمل، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ سعودی عرب نے اس جنگ کے دوران کیا، وہ قابل تحسین ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر مسلم دنیا میں اتحاد و یگانگت کا عمل فروغ پاتا ہے تو سعودی عرب کے اس شاندار کردار کا شماریقیناً اس کے اولین نقوش میں ہو گا۔
پاکستان کی دوسری کامیابی دیکھیے، اسرائیل اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نےا س جنگ کو ختم کروا دیا۔ اسرائیل کی امریکا میں کتنی لابنگ اور کتنی قوت ہے، یہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے امریکا سے اپنی بات منوا لی۔ اسرائیل کے مقابلے میں امریکا سے اپنی بات منوا لینا کتنی بڑی کامیابی کی بات ہے، جاننے والے خوب جانتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں ’عزت افزائی‘ بھی ہوئی، اس عزت افزائی کی شان نزول کے قصے ہم بھی آنے والے وقتوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی ساری تاویلات کر لے۔ اس کے باوجود پاکستان کی کام یابی مثالی ہے۔
مزید پڑھیے: مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟
پاکستان کی تیسری کامیابی دیکھیے، اس نے اس مذاکراتی عمل سے اسرائیل نام کی ایک ناجائز ریاست کو مکمل طور پر باہر رکھا۔ پاکستان جس ریاست کو تسلیم نہیں کرتا، وہ ریاست اس مذاکراتی عمل کا حصہ ہی نہیں تھی۔ اسے کسی نے بطور مبصر بھی مذاکراتی عمل میں شریک نہیں کیا۔ اسرائیل نام کی یہ ناجائز ریاست ا س سارے عمل سے الگ تھلگ ایک سفارتی اچھوت بن کر رہی۔ امریکا نے اپنے طور پر اس سے رابطے کیے تو کیے، مذاکراتی عمل میں کسی نے اس کو منہ لگانا گوارا نہیں کیا۔ کوئی نہ سمجھنا چاہے تو یہ ایک الگ بات ہے ورنہ سامنے کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس مرتی مارتی دنیا میں اس کی اتنی غیر معمولی اہمیت ہے کہ کوئی جائے اور ساکنان تل ابیب سے پوچھے کہ پاکستان کی سفارتی شہ مات کیسی تھی۔
پاکستان کی چوتھی کامیابی بھی غیر معمولی ہے۔ ایک وقت آیا کہ ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل سے معاملہ کرنے کو کہا۔ کچھ حلقوں کی جانب سے کہا جانے لگا کہ پاکستان پر دباؤ آ گیا ہے اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر دیکھتے ہیں اب پاکستان کیا کرتا ہے۔ کچھ کہنے لگے کہ ٹرمپ نے اب تک وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کی ہی اسی لیے ہیں کہ وہ پاکستان کو اس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ کسی نے طعنہ دیا کہ پاکستان بھلا اب انکار کر کے دکھائے۔ جتنے منہ اتنی باتوں واالا معاملہ نہیں تھا، یہ جتنے منہ اس سے دگنی باتوں والا معاملہ تھا۔
لیکن پاکستان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر صاف طور پر کہہ دیا کہ اسرائیل کے سنہ 1967 کی سرحدوں میں سمٹے بغیر اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کا وجود گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اس مؤقف میں سعودی عرب بھی پاکستان کے ساتھ رہا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دونوں کا مؤقف ایک ساتھ آیا۔ دونوں کے درمیان دفاعی معاہدہ تو تھا ہی، اب ایک اہم ترین ایشو پرمربوط سفارتی بیانیہ بھی سامنے آگیا۔ یعنی پاکستان نے ثابت کر دکھایا کہ ایسا نہیں کہ حالات کی نزاکت یا امریکا سے اس کے بہترین تعلقات اس کے قومی بیانیے کو بدل دیں گے۔ بلکہ پاکستان نے یہ کر کے دکھایا کہ پاکستان اپنے قومی بیانیے پر قائم رہ کر امریکا سے باوقار تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔
اب جنیوا میں رسمی کارروائی باقی ہے۔ فریقین امن کی دستاویز پر دستخط کریں گےا ور پاکستان امن کی اس عالمی مجلس کا میزبان ہو گا۔
پاکستان نے وہ کر دکھایا جس کے تصور سے اقوام متحدہ کا زہرہ بھی آب ہو جائے۔ کہنے کو اقوام عالم میں بڑے بڑے عالمی ادارے اور کئی سپر پاورز موجود تھیں لیکن جب ایک تہذیب کو ختنم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں تو یہ پاکستان تھا جو امن کا پرچم تھام کر میدان میں آیا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟
آگے امکانات کا ایک وسیع جہاں ہے۔ اس جہان میں ایک بالکل نیا پاکستان کھڑا ہے۔ ایک پر اعتماد، ایک زیادہ باوقار، معتبر اور سرخرو پاکستان۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













