امریکی کارروائی میں 3 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق بھارتی عوام اور اپوزیشن حلقوں میں واقعے پر شدید ردعمل پایا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیرون ملک موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا
رپورٹس کے مطابق بھارت نے واقعے پر واشنگٹن کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا، تاہم امریکی حکام نے معذرت سے گریز کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی ایران سے منسلک تیل کی ترسیل اور پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے تناظر میں کی گئی۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس سمیت مختلف سیاسی حلقوں نے مودی حکومت کے ردعمل کو ناکافی قرار دیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ بھارتی شہریوں کی ہلاکت کے باوجود حکومت امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔
3 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد مودی کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے۔ The Guardian کے مطابق بھارتی عوام اور اپوزیشن حلقوں میں واقعے پر شدید ردعمل پایا جا رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیرون ملک موجود ہیں۔@KulAalam @narendramodi #india pic.twitter.com/UAq2MYKc7q
— Media Talk (@mediatalk922) June 16, 2026
دوسری جانب بھارتی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل جی ڈی بخشی سمیت بعض مبصرین نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ یوتھ موومنٹ‘ کا احتجاجی آغاز، مودی حکومت کے خلاف دلی میں مظاہرہ
یاد رہے کہ امریکی حملے میں نشانہ بننے والے ٹینکر پر 24 بھارتی ملاح سوار تھے جن میں سے 21 کو بچالیا گیا، جبکہ 3 ملاح ہلاک ہوگئے۔ واقعے کے بعد نئی دہلی نے امریکی سفارتی اہلکار کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری پر زور دیا۔














