نئے ہجری سال 1448ھ کے آغاز پر خانۂ کعبہ کو نیا غلاف (کسوہ) پہنایا گیا۔ یہ روح پرور منظر دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، جبکہ نئے غلاف کی تیاری میں سعودی عرب کے 150 ماہر کاریگروں نے قریباً 11 ماہ تک کام کیا۔

مزید پڑھیں: غلافِ کعبہ کی تیاری کے حیرت انگیز مراحل: کسوۂ کعبہ کی تبدیلی کی گھڑیاں قریب
نئے غلاف کا وزن 1410 کلوگرام ہے اور اسے 47 حصوں میں تیار کیا گیا ہے۔ اس پر 30 قرآنی آیات کو چاندی کے تاروں اور 24 قیراط سونے سے ملمع کاری کے ساتھ کشیدہ کیا گیا ہے، جو اسے اسلامی فنِ دستکاری کا ایک منفرد شاہکار بناتا ہے۔
New Kaaba Kiswa replacement ceremony… 🕋🧡🖤 pic.twitter.com/klobaBPDNg
— Saudi Expatriates (@saudiexpat) June 16, 2026
غلافِ کعبہ کی تیاری 7 مراحل پر مشتمل ہوتی ہے جن میں ریشم کی دھلائی، بُنائی، طباعت، کشیدہ کاری، جوڑائی اور معائنہ شامل ہیں۔ تیار ہونے کے بعد اسے خصوصی ٹریلر کے ذریعے مسجد الحرام منتقل کیا جاتا ہے۔

نئے غلاف کی ایک اور انفرادیت اس میں استعمال ہونے والے 7 مختلف اقسام کے کپڑے ہیں۔ بیرونی حصہ سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ اندرونی استحکام کے لیے سفید اور آف وائٹ کپاس استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح سرخ اور سبز ریشم مخصوص حصوں اور دروازۂ کعبہ کے پردے میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ابھرا ہوا سبز ریشم اندرونی غلاف کی زینت بنتا ہے۔
खाना-ए-काबा की पाकं चादर (किस्वा) बदलने की ऐतिहासिक और रूहानी रस्म जारी है। यह नज़ारा दुनिया भर के मुसलमानों के लिए उस एक अल्लाह पर यक़ीन का एक मिसाल है। pic.twitter.com/eidYKay8Mv
— Karishma Aziz (@KarishmaAziz_) June 16, 2026
سعودی عرب میں غلافِ کعبہ کی تیاری کا سلسلہ 1345 ہجری میں شروع ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ عمل ایک چھوٹی ورکشاپ سے ترقی کرتے ہوئے ام الجود میں قائم جدید کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ تک پہنچ چکا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور روایتی مہارت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا، غلافِ کعبہ تبدیل

غلافِ کعبہ نہ صرف روحانی عقیدت کی علامت ہے بلکہ اسلامی فن، اعلیٰ دستکاری اور صدیوں پر محیط روایت کا بھی ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔














