غلافِ کعبہ کی تیاری کے حیرت انگیز مراحل: کسوۂ کعبہ کی تبدیلی کی گھڑیاں قریب

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر کے مسلمان نئے ہجری سال کا استقبال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ مسجد الحرام میں خانۂ کعبہ کو نیا غلاف (کسوہ) پہنانے کی سالانہ روح پرور روایت کی تیاریاں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ عظیم الشان عمل حرمین شریفین کی خدمت اور خانۂ کعبہ کے تقدس کے حوالے سے سعودی عرب کی خصوصی توجہ کا مظہر ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق نئے غلاف کی تیاری کئی ماہ قبل مکہ مکرمہ میں قائم کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ میں شروع کی جاتی ہے، جہاں ماہر کاریگر خالص قدرتی ریشم سے غلاف تیار کرتے ہیں اور اس پر سونے اور چاندی سے ملمع دھاگوں کے ذریعے قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کی نہایت نفیس کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:یکم محرم 1446ھ، غلاف کعبہ کی تبدیلی کا دن

غلاف کی تبدیلی کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی مسجد الحرام میں انتظامات مزید تیز کر دیے جاتے ہیں۔ نئے کسوہ کے مختلف حصے مخصوص مقامات پر منتقل کیے جاتے ہیں جبکہ ماہرین قرآنی آیات، اسلامی نقوش اور کڑھائی کے تمام حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تاکہ تنصیب کے وقت ہر چیز مکمل طور پر تیار ہو۔

غلاف کی تبدیلی سے ایک رات قبل خصوصی تکنیکی اور انجینئرنگ ٹیمیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ سب سے پہلے موجودہ غلاف سے سونے سے مزین حصے اور کڑھائی شدہ اجزا احتیاط سے الگ کیے جاتے ہیں، جس کے بعد پرانا غلاف مرحلہ وار اتارا جاتا ہے۔

اس کے بعد نیا غلاف خانۂ کعبہ کی چاروں دیواروں پر نہایت احتیاط اور طے شدہ ترتیب کے مطابق نصب کیا جاتا ہے تاکہ تمام حصوں میں مکمل ہم آہنگی اور درست مطابقت برقرار رہے۔ اسی رات خانۂ کعبہ کے گرد لگائی جانے والی کشیدہ کاری سے مزین پٹی (حزام) اور دروازے کا پردہ بھی نصب کیا جاتا ہے۔

یہ سالانہ تقریب کسوۂ کعبہ کی تیاری، دیکھ بھال اور تنصیب میں سعودی ماہرین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ سعودی عرب نے اس شعبے میں عالمی معیار کی مہارت حاصل کر لی ہے، جہاں اسلامی ورثے کے تحفظ کو جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ فنی مہارت کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔

کسوۂ کعبہ کی تبدیلی محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ گہری مذہبی اور تہذیبی اہمیت کی حامل روایت ہے، جو خانۂ کعبہ سے مسلمانوں کی عقیدت اور محبت کی عکاس ہے۔ یہ تقریب حرمین شریفین کی خدمت اور مقدس مقامات کی دیکھ بھال کے حوالے سے سعودی قیادت کے مسلسل عزم کی بھی ترجمان ہے۔

یکم محرم الحرام کی صبح طلوع ہونے تک خانۂ کعبہ نئے غلاف سے آراستہ ہو چکا ہوگا، اور یوں نئے ہجری سال کا آغاز ایک روحانی اور تاریخی منظر کے ساتھ ہوگا جو صدیوں سے اسلامی روایت کا حصہ چلا آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اورنگی ٹاؤن: جہاں ’غلافِ کعبہ‘ تیار ہوتا تھا

غلافِ کعبہ کی تیاری کتنے مراحل پر مشتمل ہوتی ہے؟

خانۂ کعبہ کا غلاف، جسے عربی میں کسوۂ کعبہ کہا جاتا ہے، اسلامی دنیا کے عظیم ترین فنّی اور روحانی شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال یکم محرم الحرام کو نئے ہجری سال کے آغاز کے ساتھ غلافِ کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے، تاہم اس کی تیاری کئی ماہ پر محیط ایک پیچیدہ اور نہایت باریک بینی سے انجام پانے والے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔

کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ میں تیار ہونے والا یہ مقدس غلاف 7 اہم مراحل سے گزرتا ہے۔ اس عمل کا آغاز پانی کی تطہیر سے ہوتا ہے، جس کے ذریعے پانی سے نمکیات الگ کی جاتی ہیں۔ یہی پانی بعد میں خانۂ کعبہ کے غسل اور ریشمی غلاف کی رنگائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں غلاف کی رنگائی کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ریشم سے موم کی تہہ ہٹائی جاتی ہے، پھر بیرونی حصے کو سیاہ جبکہ اندرونی حصے کو سبز رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ اس کے بعد خودکار مشینوں کے ذریعے بُنائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ غلاف کے تانے کی تیاری کے لیے فی میٹر قریباً 9 ہزار 900 ریشمی دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں، جو اس کے معیار اور مضبوطی کا اندازہ دیتے ہیں۔

بُنائی مکمل ہونے کے بعد قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کو ’سلک اسکرین‘ تکنیک کے ذریعے ریشم پر منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ انتہائی دقت طلب ہوتا ہے کیونکہ ہر حرف اور ہر نقش کو نہایت احتیاط کے ساتھ غلاف پر منتقل کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد مختلف سائز کے تیار شدہ ریشمی پینلز کو آپس میں جوڑا اور سِلائی کیا جاتا ہے۔ پھر ان پر سنہری آرائش کی جاتی ہے اور قرآنی آیات و نقوش کی کڑھائی کے لیے خالص چاندی اور سونے کے پانی چڑھے ہوئے دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں۔

غلاف کو مزید خوبصورت اور نمایاں بنانے کے لیے قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کے نیچے روئی اور کاٹن کے دھاگوں کی تہہ لگائی جاتی ہے، جس سے الفاظ اور ڈیزائن ابھرے ہوئے اور سہ جہتی (تھری ڈائمینشنل) دکھائی دیتے ہیں۔

آخری مرحلے میں پورے کسوہ کا سخت معیار کے مطابق تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ غلاف کا ہر حصہ مقررہ اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہو، جس کے بعد اسے حتمی منظوری دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں غلاف کعبہ کی تیاری کی تاریخ

کنگ عبدالعزیز کمپلیکس کے مطابق ایک مکمل غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے قریباً 825 کلوگرام خالص ریشم، 120 کلوگرام سونے کے پانی چڑھی چاندی کی تار، 60 کلوگرام خالص چاندی اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال کی جاتی ہے۔

یوں ہر سال خانۂ کعبہ کو پہنایا جانے والا نیا غلاف نہ صرف عقیدت و احترام کی علامت ہوتا ہے بلکہ اسلامی فنِ دستکاری، مہارت اور روایت کے ایک بے مثال امتزاج کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات بے بنیاد، بجٹ بغیر آئینی ترمیم کے منظور ہوگا، عبدالقادر پٹیل

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

معروف اداکارہ محض 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ