اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے قریباً تمام بچے کم از کم ایک موسمیاتی خطرے کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اربوں بچے بیک وقت متعدد ماحولیاتی آفات کی زد میں ہیں۔
یونیسف کی تازہ ’چلڈرنز کلائمیٹ رسک رپورٹ 2026‘ کے مطابق قریباً ایک ارب 80 کروڑ بچے خشک سالی جبکہ ایک ارب 20 کروڑ بچے شدید گرمی کے خطرات سے دوچار ہیں۔
مزید پڑھیں: برازیل میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا اختتام، موسمیاتی تبدیلی روکنے کے لیے کیا پیشرفت ہوئی؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بچوں کی صحت، تعلیم، خوراک اور مستقبل پر براہِ راست منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب ایک کروڑ سے زائد بچے کم از کم 3 موسمیاتی خطرات کا بیک وقت سامنا کر رہے ہیں، جن میں گرمی کی لہریں، سیلاب، خشک سالی، طوفان، جنگلاتی آگ اور گرد و غبار کے طوفان شامل ہیں۔
Almost all of the world’s children are exposed to at least one climate hazard, with as many as 1.8 billion put in danger by droughts and 1.2 billion by extreme heat, the United Nations Children’s Fund said in a report https://t.co/GDx1MikYDe
— Reuters (@Reuters) June 16, 2026
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے باہم جڑے خطرات حکومتی نظام اور سماجی خدمات پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ افریقہ کے ساحل خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک، خصوصاً پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار، ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں بچے متعدد موسمیاتی خطرات کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بچوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور دنیا کے نصف بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی موافقت، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام میں فوری سرمایہ کاری کریں تاکہ بچوں کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔














