وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب آئی سی یو سے باہر آ چکی ہے اور ملک دیوالیہ پن کے خطرے سے نکل کر مالی استحکام کی جانب گامزن ہوگیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے میں پاکستان کے کردار اور معیشت کی موجودہ حالت پر تفصیلی گفتگو کی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی ملکی معیشت اور مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ تازہ ترین سروے سامنے آگیا
انہوں نے کہاکہ جب موجودہ حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تو ملک عملاً دیوالیہ پن کی کیفیت سے دوچار تھا اور ہر وقت یہ خدشہ موجود رہتا تھا کہ پاکستان آج یا کل ڈیفالٹ کر جائےگا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سخت شرائط کے ساتھ ہماری مدد کی، جن کے اثرات ہم آج بھی برداشت کر رہے ہیں، لیکن ہم دوبارہ مالی طور پر مستحکم ہو چکے ہیں۔ ہماری معیشت سانس لے رہی ہے، اور آئی سی یو سے باہر آ چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ پاکستان راتوں رات غیر معمولی ترقی کی منازل طے کر لے گا، تاہم موجودہ معاشی سمت اس بات کی گواہ ہے کہ ایک یا 2 برس میں پاکستان 6 سے 7 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت
وزیر دفاع نے کہاکہ ملک میں متعدد پوشیدہ ٹیکس موجود ہیں جن سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی شرح کو اس سطح پر لایا جانا چاہیے جہاں پورا ملک خوش دلی سے ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہو، نہ کہ یہ شرح اتنی زیادہ ہو کہ لوگ ٹیکس چوری کے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں کو ٹیکس چوری کے طریقے تلاش کرنے پر کیوں مجبور کریں؟ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں لوگ فخر کے ساتھ ٹیکس ادا کریں۔
بلوچستان میں بدامنی اجتماعی ناکامی قرار
خواجہ آصف نے بلوچستان میں دہشتگردی اور بدامنی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ مسئلہ نہ تو گزشتہ روز پیدا ہوا اور نہ ہی چند دن پہلے، بلکہ اس کے پس منظر میں کئی دہائیوں کی غلطیاں اور کوتاہیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے، لیکن یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کی سڑکیں محفوظ نہیں ہیں تو اس کی اجتماعی ذمہ داری اس ایوان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں سامنے بیٹھی اپوزیشن کو ان کے ادوار کی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہوں اور وہ مجھے مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں، لیکن یہ مسئلہ 50 کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ اگر ہم اس کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی طور پر ہی اس کا حل نکالنا ہوگا۔
امریکا ایران معاہدے میں پاکستان کے کردار کا اعتراف
وزیر دفاع نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایک سال کے اندر پوری دنیا نے پاکستان کی اہمیت اور عظمت کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے پاک فوج کی قیادت، وزیراعظم اور ان کے ساتھ کام کرنے والی پوری ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ پوری قوم کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے معاملے کو کامیابی سے انجام دیا جو بظاہر ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ ’انہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔‘
خواجہ آصف نے یہ بھی کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکا اور ایران کے معاہدے پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد تو دی، لیکن اس تمام عمل میں پاکستان کے نمایاں کردار کے باوجود اپنے بیان میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔
ایران سے بہتر تعلقات بلوچستان کے لیے سود مند قرار
وزیر دفاع نے کہاکہ حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ تعلقات میں ہونے والی انتہائی خوش آئند پیشرفت سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اس کی تیل و گیس کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس سمت میں کس طرح آگے بڑھا جا سکتا ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکیں۔
مصطفیٰ کمال کی این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر تنقید
اس سے قبل اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فنڈز کی تقسیم کے موجودہ فارمولے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے خامیوں پر مبنی قرار دیا۔
وفاقی بجٹ 27-2026 پر جاری بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کا 82 فیصد حصہ آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سا صوبہ آبادی پر قابو پا کر اپنی آمدنی میں کمی کرنا چاہے گا؟
انہوں نے نشاندہی کی کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور اسے این ایف سی میں سب سے کم حصہ ملتا ہے، لہٰذا اگر وہ پنجاب جیسا حصہ حاصل کرنا چاہے تو اسے اپنی آبادی بڑھانی پڑے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم موجودہ نظام کی سب سے بڑی خامی ہے۔
انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کی بنیاد پر وزن صرف 17 فیصد ہے، جبکہ باقی حصہ محصولات، پسماندگی، آمدنی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
آبادی میں اضافے پر تشویش
وفاقی وزیر صحت نے کہاکہ ہمسایہ ممالک نے آبادی میں اضافے پر قابو پا کر ترقی کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو ملک کو 64 ہزار نئے پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے سوال کیاکہ کیا ہمارے بجٹ میں اتنے وسائل موجود ہیں کہ یہ ضروریات پوری کی جا سکیں؟
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اسی رفتار سے آبادی بڑھنے کی صورت میں 6 کروڑ 50 لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرنا ہوگا جبکہ اسپتالوں میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے بستروں کی ضرورت بھی پیش آئے گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ جو صوبے آبادی میں اضافے پر قابو پانے کی کوشش کریں، انہیں 32 فیصد ترغیبی مراعات دی جانی چاہییں۔
مانع حمل ادویات پر ٹیکس خاتمے کا خیرمقدم
وزیر صحت نے بجٹ میں مانع حمل ادویات پر عائد 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے شرح پیدائش میں کمی آئے گی اور آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ملک میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار ہے، مصطفیٰ کمال کا انکشاف
انہوں نے این ایف سی کے تحت مختص فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ موجودہ طرز حکمرانی کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر وسائل اور مسائل کا حل فراہم نہیں کیا جا سکتا۔














