معروف مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’ایپسوس‘ (Ipsos) کے تازہ ترین سروے کے مطابق، صرف 20 فیصد (ہر 10 میں سے 2) پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں گامزن ہے۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال کے آغاز میں پاک ایران کشیدگی کے دوران ملکی سمت پر عوامی اعتماد جو 40 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، اب گر کر دوبارہ محض 22 فیصد پر آ گیا ہے، جو کہ کورونا وائرس (Covid-19) کے دور جیسی شدید معاشی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایپسوس کے سروے کے مطابق خواتین کے مقابلے میں مرد، اور شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی باشندے ملکی مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پرامید ہیں۔ چاروں صوبوں میں سے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہری ملکی معیشت کے حوالے سے سب سے زیادہ پرامید نظر آئے۔
گزشتہ ماہ کیے جانے والے اس سروے میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد افراد سے انٹرویو کیے گئے۔ سروے میں عوام نے معاشی اضطراب، بے روزگاری اور مہنگائی کو ملک کے سب سے سنگین اور اہم ترین مسائل قرار دیا۔ جب ان سے موجودہ معاشی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو 5 میں سے صرف ایک شہری نے معیشت کو مستحکم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
معاشی صورتحال پر نوجوان طبقہ بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں زیادہ پراعتماد پایا گیا، جبکہ پنجاب کے مقابلے میں خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے رہائشیوں میں زیادہ مثبت رائے دیکھی گئی۔ آمدنی کے لحاظ سے لوئر مڈل کلاس (لوئر متوسط طبقے) کے افراد دیگر طبقات کے مقابلے میں مستقبل سے زیادہ پرامید دکھائی دیے۔
سروے کے مطابق صرف 7 فیصد پاکستانیوں نے گھریلو خریداری کے حوالے سے خود کو مالی طور پر مطمئن یا آرام دہ پوزیشن میں پایا، جن میں نوجوان، اپر مڈل کلاس، شہری آبادی اور سندھ کے رہائشی نمایاں ہیں۔ عالمی معاشی دباؤ کے درمیان کچھ عرصہ استحکام رہنے کے بعد اب گھریلو خریداری کی سکت دوبارہ کورونا کے دور جتنی کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ محض 20 فیصد لوگوں کو امید ہے کہ آنے والے وقت میں معیشت مضبوط ہوگی۔
ایپسوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث عوام میں مایوسی بتدریج لوٹ رہی ہے اور معاشی توقعات دم توڑ رہی ہیں۔ پاک ایران کشیدگی جیسے جیو پولیٹیکل جھٹکوں کے باعث پیدا ہونے والی حساسیت کی وجہ سے ذاتی مالیاتی حالات پر اطمینان گر کر 31 فیصد رہ گیا ہے۔‘ رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ شرح کم ہے، مگر نوجوانوں، مردوں، دیہی علاقوں اور پنجاب و بلوچستان کے امیر طبقے میں یہ اطمینان نسبتاً بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا کے عوام کا حکومتی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار، گیلپ سروے کے نتائج جاری
سرمایہ کاری کے حوالے سے عوامی اعتماد محض 14 فیصد پر برقرار ہے، جبکہ گاڑی یا گھر جیسی بڑی خریداریاں کرنے کی سکت صرف 5 فیصد تک محدود ہو چکی ہے، جو کہ پاک بھارت تنازع کے بعد حاصل ہونے والے عارضی معاشی استحکام کے بعد اب دوبارہ نیچے آ گئی ہے۔ روزگار کے تحفظ کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں صرف 17 فیصد پاکستانی اپنی ملازمتوں کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 2 سالوں میں ملازمت کے تحفظ کا جو گراف دوگنا ہوا تھا، وہ پاک ایران کشیدگی اور موجودہ معاشی لہر کے بعد دوبارہ نیچے گر چکا ہے۔














