وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحرائی اور خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ زمین کی زرخیزی میں کمی، بنجر پن اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی کے عالمی دن پر خصوصی پیغام
انہوں نے کہا کہ اس دن کا مقصد خشک سالی اور زمین کے بنجر ہونے کے تباہ کن اثرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔ پنجاب حکومت خشک سالی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے زراعت، پانی کے مؤثر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں چھوٹے ڈیموں اور تالابوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ چولستان اور تھل جیسے علاقوں میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صحرائی علاقوں میں ’پلانٹ فار پاکستان‘ شجرکاری مہم کے تحت درخت لگانے اور زیتون جیسی فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ خشک سالی زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اس لیے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور بنجر زمینوں کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ اور جنگلی حیات کی نگرانی کے لیے تھرمل سینسر سمیت جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کون سی نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا؟
مریم نواز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا بھر میں زرخیز زمینیں صحراؤں میں تبدیل ہو رہی ہیں، لہٰذا بنجر زمینوں کی بحالی اور پانی کی کمی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت پی آر آئی اے ٹی منصوبے کے تحت پانی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنا رہی ہے جبکہ شمسی توانائی سے چلنے والے جدید اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل آبپاشی نظام بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔














