ایران امریکا معاہدہ: تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی، مارکیٹ کو آبنائے ہرمز کی بحالی کا انتظار

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق فریم ورک معاہدے پر دستخط کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی بحال ہونے کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے۔

برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے بدھ کو قریباً ایک فیصد مزید سستے ہو گئے، یوں گزشتہ 2 روز کے دوران ہونے والی قریباً 5، پانچ فیصد کمی کا سلسلہ برقرار رہا۔ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل 78.24 ڈالر فی بیرل تک آ گیا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ کے اوائل کی کم ترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا اور ایران کے مابین مفاہمت پر پاکستان اور مصر کے درمیان مشاورت

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے اعلان کے بعد منڈیوں میں اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے اور سرمایہ کار آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔

لندن میں قائم پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار ٹامس ورگا کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار تجارتی سیشنز کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 17 ڈالر فی بیرل کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مارکیٹ سپلائی میں رکاوٹوں کے بڑے خطرات کو ختم ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے۔

دوسری جانب سنگاپور کی آئل مارکیٹ تجزیاتی کمپنی وانڈا انسائٹس کی بانی وندنا ہری نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کمی زیادہ تر توقعات اور جذبات پر مبنی ہے، جبکہ معاہدے پر عملدرآمد اور وعدوں کی تکمیل کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق منڈی آبنائے ہرمز کے مکمل کھلنے اور تیل کی ترسیل معمول پر آنے کے بہترین ممکنہ منظرنامے کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے، تاہم ممکنہ رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا جا رہا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد اپنی سخت پابندیاں ختم کرے گا، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھانے سمیت دیگر رعایتیں دے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے سے توانائی کی عالمی سپلائی بحال ہونے کی راہ ہموار ہوگی، تاہم سمندری نقل و حمل کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے امن معاہدے کا عالمی سطح پر خیرمقدم، پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف

اندازوں کے مطابق خلیج سے گزرنے کے لیے 500 سے زائد جہاز انتظار میں ہیں، جبکہ سمندری راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا عمل بھی وقت طلب ہوگا۔

بین الاقوامی ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن کاٹن کے مطابق جنیوا میں متوقع دستخطی تقریب معمول کی بحالی کے عمل کا صرف آغاز ہوگی، جبکہ جہازوں کی قطاریں، عملے کی تبدیلی اور دیگر انتظامی امور مکمل ہونے میں مزید وقت درکار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp