نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) نے مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے فائر سیفٹی کے قوانین کو انتہائی سخت کرتے ہوئے تمام گاڑیوں کے لیے کارآمد فائر ایکسٹنگوشر (آگ بجھانے والا آلہ) ساتھ رکھنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
یہ اہم فیصلہ حال ہی میں اسلام آباد، مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے کے بعد کیا گیا ہے، جہاں ایک مسافر وین نالے میں گرنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پولیس کا نیا قانون: ڈرائیور کے ساتھ اب مسافروں کا بھی چالان ہوگا
موٹروے پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گاڑیوں میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی کو یقینی بنانے کا مقصد حادثات کی صورت میں آتشزدگی کے خطرات کو کم کرنا اور قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔
اطلاع عام! pic.twitter.com/MMmAKNUGbw
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) June 16, 2026
اس نئے قانون پر عمل درآمد کے لیے موٹروے پولیس کی جانب سے ملک بھر میں 24 جون 2026 تک ایک وسیع عوامی آگاہی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ شہریوں کو پیشگی اطلاع مل سکے۔
ترجمان نے واضح کیا ہے کہ 24 جون کے بعد قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
25 جون سے ایسی کسی بھی پبلک سروس گاڑی یا کارگو ٹرک کو موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر داخل ہونے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی جس میں آگ بجھانے والا سلنڈر موجود نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اووراسپیڈنگ کیخلاف موٹروے پولیس کی نئی سخت پالیسی کیا ہے؟
حکام کی جانب سے ڈرائیوروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاڑی میں رکھے گئے فائر ایکسٹنگوشر کی میعاد (ایکسپائری ڈیٹ) لازمی چیک کر لیں۔
ترجمان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ گاڑی میں محض سلنڈر کا ہونا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کا چارجڈ ہونا اور اس کی سوئی کا گرین زون میں ہونا ضروری ہے۔
معیاد ختم یا ناکارہ سلنڈر رکھنے والی گاڑیوں کو بھی قانون شکنی کا مرتکب تصور کیا جائے گا اور انہیں موٹروے پر سفر کی اجازت نہیں ملے گی۔














