معروف میسجنگ ایپ ٹیلیگرام نے بھارتی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ایپ پر لگائی جانے والی عارضی پابندی کے فیصلے کو نئی دہلی کی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
بھارتی حکومت نے یہ غیر معمولی اقدام طبی تعلیمی اداروں میں داخلے کے ملک گیر امتحان کے دوبارہ انعقاد سے قبل امتحانی پرچوں کی لیکس اور ممکنہ دھاندلی کو روکنے کے لیے اٹھایا تھا، جس کے خلاف ٹیلیگرام نے اب قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: امتحانی پرچہ آؤٹ، لاکھوں طلبا سراپا احتجاج
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلیگرام کے وکلا نے دہلی ہائیکورٹ کے جج کے سامنے اس درخواست کو پیش کیا ہے، جس پر عدالت نے جلد سماعت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ تنازع پچھلے ماہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹرنس امتحان کے پرچے مبینہ طور پر امتحانات سے قبل ہی لیک ہوگئے تھے۔ اس اسکینڈل کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا اور وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا، جس پر حکومت نے پرانا امتحان منسوخ کر کے دوبارہ ٹیسٹ لینے کا اعلان کیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیلیگرام پر ایسے متعدد چینلز سرگرم تھے جو پیشگی پرچے فراہم کرنے کا دعویٰ کر کے فراڈ کررہے تھے، اسی لیے بھارتی آئی ٹی قانون کی اس شق کے تحت ایپ کو عارضی طور پر بلاک کیا گیا جو ملکی سالمیت اور خود مختاری کے مفاد میں انٹرنیٹ ایپس تک رسائی روکنے کا اختیار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس: معروف ٹیلیگرام نیوز چینل ’بازا‘ کے ایڈیٹر انچیف گرفتار، دفتر پر چھاپہ
دوسری جانب ٹیلیگرام کے بانی پاول دوروف نے اس پابندی کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پورے پلیٹ فارم پر پابندی عائد کرنا امتحانی مواد لیک کرنے والے اصل ذمہ داروں کو پکڑنے کے بجائے بھارت میں موجود ٹیلی گرام کے 15 کروڑ صارفین کو سزا دینے کے مترادف ہے۔
اس وقت بھارت میں اس طرح کی مکمل پابندیوں پر رائے عامہ منقسم ہے اور قانونی ماہرین بھی بحث کررہے ہیں کہ آیا امتحانی دھاندلی کو روکنے کے لیے کروڑوں صارفین کے زیر استعمال رابطے کے ایک بڑے ذریعے کو بند کرنا آئینی طور پر درست اقدام ہے یا نہیں۔














