پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش مگر حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں، انجینیئر خرم دستگیر

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما انجینیئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ سفارتی اور عسکری کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج معیشت اور روزگار کے شعبے میں درپیش ہے، تاہم موجودہ حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران پاکستان میں ایک معجزاتی تبدیلی آئی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار حاصل کیا۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، اسحاق ڈار

خرم دستگیر نے کہاکہ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان ایک تقسیم شدہ، مایوس اور عالمی سطح پر نظر انداز کیا جانے والا ملک دکھائی دیتا تھا، لیکن موجودہ قیادت کے فیصلوں نے صورتحال تبدیل کردی۔

’شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر نے جرات مندانہ فیصلے کیے‘

خرم دستگیر نے کہاکہ جب بھارت کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی تو اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے یہ مؤقف اختیار نہیں کیاکہ پاکستان کمزور ہے یا وسائل کی کمی کا شکار ہے، بلکہ واضح اعلان کیاکہ پاکستان جواب دے گا اور پھر عملی طور پر جواب دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کا مقابلہ کیا اور اس کامیابی نے دنیا میں پاکستان کا تشخص تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہاکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ حالیہ سفارتی پیشرفت میں پاکستان کا کردار نہیں بلکہ قطر کا کردار تھا، تاہم قطر کے ترجمان نے خود واضح کیاکہ اس پورے عمل میں پاکستان ہی مرکزی ثالث رہا۔

’معرکہ حق نے دنیا کو پاکستان کی اصل طاقت دکھا دی‘

خرم دستگیر کے مطابق بھارت کے ساتھ حالیہ معرکے نے دنیا کو دو اہم حقائق دکھائے۔

انہوں نے کہاکہ دنیا نے پاکستان کی فوجی مہارت اور فضائی صلاحیتوں کو عملی طور پر دیکھا جبکہ دوسری جانب یہ تصور بھی ختم ہو گیا کہ چینی دفاعی ٹیکنالوجی مغربی ٹیکنالوجی سے بہت پیچھے ہے۔

انہوں نے کہاکہ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ چین کے جنگی طیارے اور دفاعی نظام اب مغربی نظاموں کے ہم پلہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اکیسویں صدی میں پہلی مرتبہ دو قابلِ ذکر فضائی قوتوں کے درمیان حقیقی فضائی مقابلہ دیکھنے میں آیا اور اس میں پاکستان کی واضح کامیابی نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔

’سی پیک نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا‘

خرم دستگیر نے کہاکہ سی پیک پر تنقید کرنے والے آج یہ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں مغربی ممالک نہ صرف جدید ہتھیار بلکہ کئی مواقع پر پرزہ جات تک فراہم کرنے سے گریز کرتے رہے، تاہم چین کے ساتھ تعاون نے پاکستان کو متبادل راستہ فراہم کیا۔

’صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا‘

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طاقت کے اظہار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک مختلف انداز سے دیکھنا شروع کیا۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ طاقت کے اظہار کو اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے محسوس کیاکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف اپنا دفاع کر سکتا ہے بلکہ خطے میں مؤثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

خرم دستگیر نے دعویٰ کیاکہ امریکا نے گزشتہ 25 برسوں میں بھارت پر بڑی سرمایہ کاری کی، تاہم چین کے مقابلے میں بھارت سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔

’امریکا اور ایران کے درمیان رابطے میں پاکستان نے کردار ادا کیا‘

خرم دستگیر نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیشرفت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی عمل کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کی بنیاد اس وقت پڑی جب پاکستان نے ایران کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود رابطے برقرار رکھے اور دونوں ممالک نے تنازعات کے باوجود ایک دوسرے سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔

انہوں نے کہاکہ جنوری 2024 میں ایران کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملے کے بعد پاکستان نے جواب دیا، تاہم اس کے فوراً بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس سے مستقبل کی سفارتی پیشرفت کی بنیاد رکھی گئی۔

’پاکستان نے ایران امریکا جنگ کو ایران عرب جنگ بننے سے روکا‘

خرم دستگیر نے کہاکہ پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی یہ رہی کہ اس نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کو وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پوری سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان براہ راست تصادم نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ اگر عرب ممالک بھی جوابی کارروائیوں میں شامل ہو جاتے تو خطہ شدید خونریزی اور تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔

انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کردار کو سراہا۔

’خاموش سفارتکاری نے کامیابی دلائی‘

خرم دستگیر نے کہاکہ پاکستانی قیادت نے اس پورے معاملے میں خاموش اور محتاط سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس دوران کوئی عوامی بیان نہیں دیا جبکہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری رہیں۔

مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ اگر یہی صورتحال کسی اور ملک کو درپیش ہوتی تو شاید اس موضوع پر فلمیں اور تشہیری مہمات شروع ہو جاتیں، لیکن پاکستان نے سنجیدگی اور احتیاط کا راستہ اپنایا۔

’پاکستان کا اصل چیلنج معیشت اور روزگار ہے‘

خرم دستگیر نے کہاکہ سفارتی اور عسکری کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج معیشت اور روزگار کے شعبے میں درپیش ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا سب سے اہم قومی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے اور اس سلسلے میں توانائی کی بلند قیمتیں اور ٹیکس نظام بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو زیادہ آزاد معاشی پالیسیوں کی طرف جانا ہوگا اور معیشت کو مزید کھولنا ہوگا۔

’سعودی عرب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار بیٹھا ہے‘

خرم دستگیر نے کہاکہ پاکستان کے دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستان ان کے سامنے بڑے اور قابلِ عمل منصوبے پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ سعودی عرب کئی برسوں سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے آمادہ ہے لیکن پاکستان ابھی تک مناسب منصوبے پیش نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہاکہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ تخلیقی سوچ اور منصوبہ بندی کی کمی ہے۔

’حکومت کو فوری طور پر ٹیکس اور توانائی اصلاحات کرنی چاہییں‘

خرم دستگیر نے کہاکہ موجودہ حکومت کو سیاسی استحکام حاصل ہے اور یہی وقت ہے کہ مشکل مگر ضروری معاشی اصلاحات کی جائیں۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکس نظام میں اصلاحات اور توانائی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری ایک اہم قدم تھا اور اس کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔

’حکومت کو کوئی خطرہ نہیں‘

حکومت کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں خرم دستگیر نے کہاکہ موجودہ حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ چونکہ حکومت کو مکمل سیاسی اور ادارہ جاتی حمایت حاصل ہے، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف وہ تمام اصلاحات نافذ کر سکتے ہیں جن سے عام سیاستدان غیر مقبولیت کے خوف سے گریز کرتے ہیں۔

’گلگت بلتستان میں ن لیگ کو حکومت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے‘

گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کو وہاں حکومت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ عوام نے بڑی تعداد میں پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیاکہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ مؤقف کے بعد غالباً مسلم لیگ (ن) اس سمت میں متحرک نہیں ہے۔

’جوائنٹ ایکشن کمیٹی پورے آزاد کشمیر کی نمائندہ نہیں‘

آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو پورے آزاد کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی واقعی عوامی حمایت رکھتی ہے تو اسے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے اور عوامی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، اسحاق ڈار

انہوں نے کہاکہ احتجاج ہر کسی کا حق ہے، تاہم کسی گروہ کو صرف احتجاج کی بنیاد پر پورے خطے کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

خرم دستگیر نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے عوام کے ایک حصے کی نمائندگی ضرور کر سکتی ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہ پورے آزاد کشمیر کی آواز ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp