امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی قاتلانہ دھمکی کے باعث گزشتہ ماہ ترکیہ میں انہیں خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنا پڑا تھا، تاہم ان کے مطابق جس طیارے میں انہوں نے بعد میں سفر کیا وہ بھی ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچار تھا۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے بتایا کہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کی ہدایت پر انہیں ایئر فورس ون سے ایک فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے طیارہ تبدیل کرایا گیا۔
مزید پڑھیں:’انفینٹینو کو ہٹانا بڑی غلطی ہوگی‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کو خبردار کردیا
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جس طیارے میں انہوں نے بعد میں سفر کیا، وہ زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ ممکنہ حملہ آور کے لیے یہی طیارہ زیادہ ممکنہ ہدف ہوسکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیکرٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ موجود ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں پوچھیں کیونکہ انہیں بہت سی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ صدر ترکی سے برطانیہ کے لیے ایئر فورس ون پر روانہ ہوئے ہیں، تاہم واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے طیارے میں سوار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد انہیں خفیہ طور پر کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے طیارے سے نکالا گیا اور دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔
ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے طیارے پر انقرہ پہنچے تھے، تاہم ترکی سے روانگی کے وقت انہوں نے اچانک پرانے ایئر فورس ون سے سفر کرنے کا اعلان کیا، جس پر نئے طیارے کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھے۔
مزید پڑھیں: گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے ہاتھوں امریکی صدر ٹرمپ کو شرمندگی کا سامنا
رپورٹ کے مطابق یہ نیا طیارہ ٹرمپ کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔ اس کی تیز رفتار تزئین و آرائش کے اخراجات اور سکیورٹی انتظامات پہلے ہی زیر بحث تھے، جبکہ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور ایران ترکی کا ہمسایہ ملک ہے۔













