بلوچستان حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں عام شہریوں کو مختلف شعبوں میں ریلیف اور سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
بجٹ میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے 5 ہزار نئی سرکاری آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں 3 ہزار محکمہ تعلیم، 500 محکمہ صحت، ایک ہزار نئے اضلاع اور 500 مختلف محکموں میں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان بجٹ: تیاریاں مکمل، 20 جون کو اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان
بجٹ میں تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف اور نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے کسانوں کے لیے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے 3.8 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ زرعی شعبے کو سستی توانائی فراہم کی جاسکے۔
وزیراعلیٰ کی مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت ایک ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ عوامی فلاح کے لیے عوام اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 1.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 27-2026: پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
طلبہ کی معاونت کے لیے بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے لیے 2.8 ارب روپے، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے مزید 1.5 ارب روپے اور شہید بینظیر بھٹو اسکالرشپ کے لیے 54 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، امن و امان اور بنیادی انفراسٹرکچر کو ترجیح دیتے ہوئے ان شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔













