سیاسی سرگرمیاں تین سطحوں پر اپنے اثرات پیدا کرتی ہیں۔ یہ تین سطحیں حامی، مخالف اور غیر جانبدار لوگوں کی ہوتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں اگر تند و تیز ہو جائیں تو پھر حامیوں اور مخالفین کی سطح پر کشمکش ایسی شکل اختیار کر جاتی ہے جس سے سماج کا مضطرب ہونا یقینی ہوتا ہے۔ اور اگر بات سیاسی کشمکش سے بڑھ کر باقاعدہ ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کرجائے تو سیاسی انتشار ملکی معیشت سمیت ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سیاسی انتشار کا سب سے بڑا مضر اثر یہی ہوتا ہے کہ یہ نئی سرمایہ کاری روک دیتا ہے جو کسی بھی معیشت کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔
آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال میں ہم غیر جانبدار ہیں۔ سو ہم معاملے کو ایک الگ ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہماری سوچ معقول ہے یا نہیں، یہ فیصلہ تو آپ نے ہی کرنا ہے، ہم بس اسے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اگر یہ گزارشات غیر معقول لگیں تو کوئی حرج نہیں، آپ بس انہیں یادداشت میں محفوظ کر لیجیے، کچھ مدت بعد ممکن ہے سمجھ آجائیں۔
آزاد کشمیر نامی علاقہ ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جسے 1948 میں قائداعظم کے حکم پر پختون قبائل نے انڈین آرمی سے جنگ لڑ کر آزاد کروایا تھا۔ اس جنگ میں قبائل کے کردار کا اثر دیکھیے کہ 90 کی دہائی میں ہم اسلام آباد ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے ایک کشمیری مہمان کے استقبال کو کھڑے تھے۔ بتائی گئی علامات والا مہمان جب گیٹ سے برآمد ہوا، اور ہم پرجوش معانقے کو آگے بڑھے تو انہوں نے ہمیں پشتو میں مخاطب کیا۔ معاملہ صرف زبان کی حد تک نہ تھا بلکہ ان کی پوری وضع قطع ہی درہ خیبر کے بزرگ شہریوں والی تھی۔ سر پر روایتی پختون قراقلی جو پیچھے سے گول ہوتی ہے، وہی پختون واسکٹ جو صرف پشاور اور سوات وغیرہ میں سلتی ہے، پیروں میں کھیڑیاں، اور چہرے پر حنائی داڑھی۔
نوٹ کرنے والی ایک اہم بات یہ تھی کہ ان کی یہ پوشاک نئی نہیں، بلکہ مستعمل تھی، یوں گویا یہ وقتی طور پر اختیار کردہ گیٹ اَپ نہ تھا۔ اسی شام ہم نے ان سے پوچھا، کیا آپ کسی سفر کے دوران مقبوضہ کشمیر میں پھنس گئے تھے؟ جواب کا آغاز ایک بلند قہقہے سے ہوا، وہ تھما تو بتایا گیا۔
’نہیں میں 1948 سے وہاں ہوں اور اب وہی میرا وطن ہے۔ 48 کی جنگ میں بہت سے پختون کنٹرول لائن کی دوسری جانب رہ گئے تھے، اب وہ وہیں رچ بس گئے ہیں مگر اپنی مکمل پختون شناخت اور کلچر کے ساتھ۔ ہم پختونوں کی تعداد اب مقوضہ کشمیر میں ساڑھے تین لاکھ کے آس پاس ہے۔
اس جنگ کے لیے پختون قبائل کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ اس سوال کو چھوڑ دیتے ہیں، ورنہ ہمارے بال اور آپ کے پر دونوں خطرے میں پڑ جائیں گے۔ سو بات کرتے ہیں آج کے آزاد کشمیر کی۔
ہم نے یہ خطہ لگ بھگ 10 برس کی سرگرمیوں سے بہت تفصیل سے دیکھ رکھا ہے۔ اس کا شاید ہی کوئی کونا کھدرا ہو جو ہم سے رہ گیا ہو۔ وہاں کی صورتحال ایک آن میں آپ کو بے حد خوش کردیتی ہے تو اگلے ہی لمحے ایک اور خیال اس خوشی کو باقی نہیں رہنے دیتا۔ مختصر سے کالم میں ہم زیادہ تفصیل میں جا نہیں سکتے سو چند موٹے موٹے حوالے دینے پر گزارہ کریں گے۔ پہلی چیز یہ کہ آپ اس پہاڑی سرزمین کی انتہائی اترائی میں موجود آبادی تک چلے جائیں یا بلند چوٹیوں تک جا پہنچیں۔ جہاں بھی لوگ بسے ہوں گے، وہاں چار چیزیں لازماً موجود ہوں گی۔ بجلی، سڑک، تعلیمی ادارہ اور صحت کا مرکز۔ ان چار چیزوں کی موجودگی کسی خطے میں کیا جادو جگاتی ہے؟ سیاست کا ہر طالب علم یہ بات بخوبی جانتا ہے۔ چنانچہ اس کا اثر دیکھیے کہ آزاد کشمیر پاکستان کے کسی بھی صوبے سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والی ریاست ہے۔
اسی حساب سے پھر ان کے لیے ملازمتوں کے امکانات بھی وسیع رکھے گئے ہیں۔ انہیں سرکاری ملازمتیں صرف آزاد کشمیر میں ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت میں بھی تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں۔ 22 گریڈ کے چار پانچ کشمیری افسر تو ہم کسی بھی لمحے برسبیل تذکرہ کھڑے کھلوتے گنوا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ شکایات جو پاکستان کے چاروں صوبوں کے شہریوں کو اپنی حکومتوں سے ہمیشہ رہی ہیں وہ آزاد کشمیر میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن جب آپ کسی بھی سمت سے اس کی حدود میں داخل ہوں اور کسی کشمیری سے ہم کلام ہوں تو بطور اجنبی وہ آپ سے وہی سوال ضرور پوچھتا ہے جو ہم سب بھی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، مگر ایک فرق کے ساتھ۔ ہم اور آپ تو ایک دوسرے سے یوں پوچھتے کہ کیا آپ لاہور سے آئے ہیں؟ خیبر پختونخوا سے تشریف لائے ہیں؟ لیکن یہی سوال جب ایک کشمیری ہم سے پوچھتا ہے تو الفاظ یہ ہوتے ہیں۔
’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘
بظاہر سادہ سے نظر آنے والے اس سوال کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پوچھا کچھ نہیں جارہا، فقط بتایا جا رہا ہے۔ کیا بتایا جا رہا ہے، یہ سمجھنے کے لیے عقل کی کوئی غیر معمولی مقدار ضروری نہیں۔
آئیے ایک اور منظر دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک کے ایک کونے کھدرے کا منظر، تاکہ تصویر پوری طرح واضح ہوسکے۔ خیبرپختونخوا میں تور غر کے نام سے ایک ضلع واقع ہے، جو ابھی چند ہی برس قبل ضلع بنا ہے۔ یہیں سے وہ دریائے سندھ گزر رہا ہے جس پر تربیلا ڈیم قائم ہے۔ اس ڈیم کی جھیل نے سخت گرم موسم میں 50 کلومیٹر سے زیادہ پیچھے تک بھرنا تھا۔ یوں گویا تورغر کی لاکھوں ایکڑ زمین اس کی جھیل میں ڈوبنی تھی۔ سو سرکار نے سرکاری نرخ کے نام ایک واجبی سی رقم زمین مالکان کو تھما دی۔ اس 100 فیصد ان پڑھ خطے کے لوگوں کے ساتھ زمین کی قیمتوں کے نام پر کیا کیا وارداتیں ہوئیں اس کا ذکر چھوڑ ہی دیتے ہیں، اور اس سے زیادہ سنگین معاملے کی بات کرتے ہیں۔
جب تربیلا ڈیم مکمل ہوگیا، بجلی کی پیداوار بھی شروع ہوگئی اور یہ بجلی کراچی شہر تک 24 گھنٹے سپلائی ہونے لگی تو جانتے ہیں اس بجلی پر کس کو حق نہ دیا گیا؟ اسی تورغر کو بجلی نہ دی گئی جس کی لاکھوں ایکڑ زمینیں اسی ڈیم کی جھیل میں ڈبو دی گئی تھیں۔ تربیلا ڈیم کی پاور جنریشن نے 1200 کلومیٹر دور کراچی میں پہلا بلب کب روشن کیا، اس کی تاریخ گوگل سے آپ نکال لیجیے، ہم آپ کو یہ بتا دیتے ہیں کہ جس تورغر کی زمینیں تربیلا ڈیم میں ڈبوئی گئیں وہاں پہلی بار بجلی سے کوئی قمقمہ 2006 میں جنرل مشرف کے دور میں رشن ہوا۔ اس علاقے میں پہلی بار سڑک بنانے کا خیال 80 کی دہائی میں جنرل فضل حق کو آیا تھا، تعمیر کا کام ابھی پہاڑوں کی کٹائی تک ہی ہوا تھا کہ جنرل فضل حق مارے گئے، یوں وہ منصوبہ وہیں کا وہیں ٹھپ ہوا۔ اس سڑک کو ایک نہایت واجبی سی شکل مشرف نے ہی آکر دی۔ اور وہ کیسی ہے، یہ آپ کبھی بھی جا کر دیکھ لیجیے۔ اسی علاقے میں پہلا پرائمری اسکول بھی مشرف دور میں تعمیر ہوا لیکن بس تین تین کمرے ہی تعمیر ہوئے، اساتذہ اور طلبہ کا نام و نشان بھی ندارد۔ خدا بھلا کرے عمران خان کا کہ اس کے دور میں آکر کلاسز شروع ہوئیں۔
آئیے تھوڑا پلٹ کر آزاد کشمیر کے شہر میرپور پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ جانتے ہیں یہ شہر کہاں سے آیا؟ یہ منگلا ڈیم متاثرین کو بسانے کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ انہیں زمین کی قیمت بھی دی گئی، متبادل جگہ بھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ برطانیہ کے ورک ویزے بھی۔ جس کی برکت کا یہ عالم کہ 90 کی دہائی میں پی ٹی وی کے شہرہ آفاق پروگرام ’نیلام گھر‘ میں سوال ہوا ’پاکستان کے کس شہر میں سب سے زیادہ لینڈ کروزر اور پجارو گاڑیاں پائی جاتی ہیں؟‘ تو درست جواب میرپور ہی تھا۔
اس پورے معاملے میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اپنے جن حقوق کے لیے پاکستان کے چاروں صوبوں کے شہری 78 سال سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، وہ ان کشمیریوں کو بن مانگے مہیا ہیں جو ان چار صوبوں کے شہریوں سے اپنی سرزمین پر سوال کرتے ہیں۔ ’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘ چنانچہ روٹی، کپڑا اور مکان ان کا مسئلہ نہیں۔ ان کا مسئلہ تو مہاجرین کی 12 سیٹیں ہیں۔ تورغر ہمارا آبائی علاقہ ہے۔ ہماری فیلڈ مارشل عاصم منیر سے عاجزانہ سی درخواست ہے کہ ہمارے ضلع سے بیشک مہاجرین کی 22 سیٹیں لے جائیں، پاکستان کے جس بھی علاقے سے چاہیں، ممبران منتخب کروا لیں۔ ہمیں اس کے بدلے بس وہی کچھ دے دیجیے جو آپ 78 سال سے آزاد کشمیر کو دے رہے ہیں۔ تربیلا متاثرین کو برطانیہ کا نہ سہی سعودی عرب کا ہی ویزا دلوا دیجیے، ہم آپ کے احسان مند رہیں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













