امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا متن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور حتمی امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا ہے۔
معاہدے کے مطابق امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے۔ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق حتمی معاہدے میں کی جائے گی۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائے گا۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مطابق بحری ٹریفک 30 روز کے اندر بحال کی جائے گی۔
معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی تفصیلات آئندہ 60 روز کے دوران طے کی جائیں گی۔ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں اور فنڈز تک رسائی فراہم کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے ضروری رعایتیں دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کے تحت ایران نے ایک بار پھر اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ دونوں ممالک نے افزودہ جوہری مواد کے مستقبل اور دیگر جوہری معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ حتمی معاہدے تک ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام برقرار رکھے گا اور امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں:امریکا اور ایران کے مابین مفاہمت پر پاکستان اور مصر کے درمیان مشاورت
معاہدے کے مطابق اس کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ انتظامی طریقہ کار قائم کیا جائے گا، جبکہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔













