امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے اہم سفارتی معاہدے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جسے خطے میں 110 روز سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ضامن دستخط کیے ہیں۔ معاہدے پر امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
Islamabad :18 June 2026.
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/M0LKK9XoK8
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
اسی حوالے سے ’ایکس‘ پر جاری سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسی مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے، جبکہ دستاویز پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط پہلے ہی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اس معاہدے کو خطے کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک تاریخی سمجھوتہ طے پایا ہے، جس کے بعد 110 روز سے جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر جاری ٹوئت میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کے عزم کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اسلام آباد: 18 جون 2026.
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ pic.twitter.com/af1F81DobA
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور شریک ثالث قطرکل 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کریں گے، جہاں آئندہ کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
As Iran confirms that they have signed the U.S.-Iran MOU the White House has released footage of the moment when U.S. President Donald J. Trump signed the MOU during a dinner with his French counterpart, President Emmanuel Macron, in Versailles, France. pic.twitter.com/8Rn5DJINq6
— OSINTdefender (@sentdefender) June 17, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ثالثوں کے کردار کو سراہا ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اب توجہ مکمل طور پر معاہدے پر عمل درآمد پر مرکوز ہوگی۔
Iranian President Masoud Pezeshkian has joined U.S. President Donald J. Trump in officially signing the Memorandum of Understanding (MoU) agreed upon between Iran and the United States, thus ending the ongoing war between the two countries in the Middle East. pic.twitter.com/xDZXZ0ggl7
— OSINTdefender (@sentdefender) June 18, 2026
یہ معاہدہ اس طویل کشیدگی کے خاتمے کی علامت ہے جو فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی اور جس کے دوران خطے میں بحری نقل و حرکت، توانائی سپلائی اور سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں امریکا، ایران اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے درمیان رابطوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔














