بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ریت کی کان کنی کے تنازع پر ہونے والے پرتشدد حملے میں حکمران جماعت بی جے پی کے ایک مقامی رہنما سمیت 3 افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:چین: کوئلے کی کان میں خوفناک گیس دھماکا، 82 کان کن ہلاک، 188 زخمی
پولیس کے مطابق واقعہ کوریہ ضلع کے سون ہٹ تحصیل کے علاقے کٹگوڑی گاؤں میں پیش آیا، جہاں 2 گروپوں کے درمیان کان کنی کے کاروبار پر جاری تنازع خونریز جھڑپ میں تبدیل ہوگیا۔
حملہ آوروں نے مبینہ طور پر مخالف گروپ کی گاڑیوں پر دھاوا بول دیا اور ایک ایس یو وی کو ٹکر مار کر اس کے دروازے جام کر دیے، جس کے بعد گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔
कोरिया जिले के सोनहत थाना क्षेत्र में रेत के विवाद को लेकर ठेकेदार और उसके भाई को कार में जिंदा जलाया। @KoreaDist #FortunerCarFire #BJPLeader pic.twitter.com/XQmEG821rk
— Haribhoomi (@Haribhoomi95271) June 17, 2026
رپورٹس کے مطابق بی جے پی رہنما بھارت سنگھ گاڑی کے اندر پھنس گئے اور زندہ جل کر ہلاک ہو گئے، جبکہ 2 دیگر افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ کئی زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: 73 افراد کی ہلاکت کی بنیادی وجہ دم گھٹنا قرار
پولیس نے واقعے کو کان کنی کے کاروبار پر قبضے کی جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق حملہ بظاہر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اس کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔














