ہاجرہ یامین نے کہا ہے کہ انہیں اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ مداح ان کے کام کو پسند کرتے ہیں اور وہ مستقبل میں ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
حال ہی میں نشر ہونے والے ڈاکٹر بہو میں ان کے کردار منا کو ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ اگرچہ وہ ڈرامے کی مرکزی اداکارہ نہیں تھیں، تاہم ان کی اداکاری اور جذبات کے اظہار نے ناظرین کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صبا حمید کے نئے ڈرامے ’نور جہاں‘ پر تنقید کیوں ہورہی ہے؟
ہاجرہ یامین اس وقت دیگر ڈراموں ہمراہی اور ایک محبت اور میں بھی جلوہ گر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک فنکار کے طور پر وہ ہر کردار میں اپنی بہترین صلاحیتیں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ناظرین کی محبت انہیں مزید بہتر مواقع تک لے جائے گی۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے 8 سالہ فنی سفر میں کامیابیوں اور مشکلات دونوں کا سامنا کیا، تاہم ہر تجربے نے انہیں ایک بہتر فنکار بنایا۔ ان کے مطابق زندگی کے مشکل لمحات بھی انہیں اپنے کرداروں میں حقیقی جذبات منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہاجرہ یامین نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ آسان اور روایتی کرداروں کے بجائے چیلنجنگ کرداروں کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے ڈاکٹر بہو میں کردار قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، تاہم پروڈیوسر ندیم بیگ کے اصرار پر وہ اس کردار کے لیے تیار ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی
انہوں نے اپنے ساتھی اداکار عدیل حسین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں اداکاری کے دوران بھرپور آزادی دی، جس سے وہ اپنے کردار کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔
ہاجرہ یامین کا کہنا تھا کہ وہ تنقیدی پذیرائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، تاہم اب وہ زیادہ تجارتی کامیابی حاصل کرنے اور ہر قسم کے کرداروں میں نظر آنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

اداکارہ کے مطابق بعض فنکار ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے دباؤ محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی اداکاری نمایاں ہو جائے گی، تاہم اب وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں جو اجتماعی طور پر ایک اچھا منصوبہ تخلیق کرنا چاہتے ہوں۔
ہاجرہ یامین نے کہا کہ وہ اپنے کام اور صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھتی ہیں اور مستقبل میں مزید بڑے اور یادگار کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔














