کیا کائنات میں انسان اکیلا ہے؟ اس قدیم سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے سائنسدان امریکا کے یلو اسٹون نیشنل پارک میں تحقیق کررہے ہیں، جہاں کے گرم چشموں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ مستقبل میں مریخ پر زندگی کی تلاش میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالب علم ٹینر بارنز اور ونس ڈیبس سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ ماہرین فلکیاتی حیاتیات کے طور پر یلو اسٹون کی پگڈنڈیوں پر تحقیق کررہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسے شواہد تلاش کرنا ہے جو زمین سے باہر زندگی کے امکان کو سمجھنے میں مدد دے سکیں۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
دونوں محققین پروفیسر ایورٹ شاک کی نگرانی میں جیوپگ لیبارٹری میں کام کررہے ہیں، جہاں اس بات کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ ارضیات، کیمیا اور حیاتیات کے باہمی تعلق سے کسی سیارے پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے تشکیل پاتا ہے۔
اگرچہ دونوں سائنسدان یلو اسٹون کے ایک ہی گرم چشموں پر تحقیق کررہے ہیں، تاہم ان کی تحقیق کے موضوعات مختلف ہیں۔
ٹینر بارنز کاربن کے آئسوٹوپس کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نمونوں میں موجود کاربن حیاتیاتی سرگرمی کا نتیجہ ہے یا محض قدرتی عمل سے وجود میں آیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کاربن کے ماخذ کی درست شناخت انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے زمین اور دیگر سیاروں پر موجود چٹانوں میں پائے جانے والے کاربن کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا وہ محض اتفاقی طور پر موجود ہے یا کسی جاندار کی نشانی ہے۔
بارنز کے مطابق ان کی تحقیق ناسا کے لیے ایک اہم حوالہ فراہم کرے گی۔ مستقبل میں جب مریخ سے نمونے زمین پر لائے جائیں گے تو اگر ان میں موجود کاربن یلواسٹون کے حیاتیاتی نمونوں سے مماثلت رکھتا ہوا ملا تو یہ مریخ پر زندگی کے شواہد کی مضبوط علامت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: مریخ پر 10 لاکھ افراد کی آبادکاری پر ایلون مسک کے لیے بڑے انعام کا اعلان
دوسری جانب ونس ڈیبس ایسے ننھے جانداروں پر تحقیق کررہے ہیں جو سورج کی روشنی یا نامیاتی مادے کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ خردبینی جاندار پانی میں ہونے والے کیمیائی تعاملات سے خارج ہونے والی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے لوہا آکسیڈائز ہونے کے عمل سے توانائی پیدا کرتا ہے۔














