خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کا تقریباً 90 فیصد ترقیاتی بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے اور زمینی سطح پر اس کے ثمرات دکھائی نہیں دیتے، اس کرپشن کا پیسہ اڈیالہ جیل کے اندر اور اس کی چوکیداری کرنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ پہلے کے پی کے پیسوں سے بنی گالہ اور زمان پارک کے اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔
عباداللہ خان کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ہر اسمبلی کے لیے بجٹ پیش کرنا لازمی ہے، تاہم صوبائی حکومت نے بجٹ کے معاملے کو ایک سزا یافتہ مجرم اور قیدی کی خواہشات سے مشروط کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ صوبے میں بدعنوانی، بدانتظامی، کرپشن، ٹک ٹاک اور ناقص طرزِ حکمرانی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوامی مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ خان نے کہا کہ وہ پانچویں مرتبہ اسمبلی کے رکن ہیں اور موجودہ حکومت کے پیش کردہ بجٹوں کا قریب سے جائزہ لیتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عوام کو عملی طور پر کوئی نمایاں فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں پر واقعی کام ہوا ہے تو صوبے میں گزشتہ دو برس کے دوران تعمیر ہونے والا ایک بھی دو کمروں پر مشتمل پرائمری اسکول دکھا دیا جائے، ایک بنیادی صحت کا مرکز جو اس عرصے میں تعمیر کیا گیا ہو، دکھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کو ترجیحی شعبہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن بنیادی تعلیمی ڈھانچے میں بہتری کے شواہد نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق صوبے میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر سنگین سوالات موجود ہیں اور عوامی وسائل کو شفاف انداز میں خرچ نہیں کیا جا رہا۔
ڈاکٹر عباد اللہ خان نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق مالیاتی معاملات اور بجٹ کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ ان کے بقول آرٹیکل 125 کے تحت مخصوص اور غیر معمولی حالات میں بعض اقدامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم موجودہ حالات کو اس آئینی شق کے استعمال کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ، سیلاب یا دیگر ہنگامی صورتحال میں ایسے اقدامات قابلِ فہم ہوتے ہیں، لیکن معمول کے حالات میں آئینی طریقہ کار سے انحراف درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی تنازعات میں الجھنے کے بجائے صوبے کے عوامی مسائل اور مالی شفافیت پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے شروع سے 6 گروپ ہیں اور وہ صرف ایک نکتے پر متفق ہیں کہ پارٹی کے بانی کو قید میں رکھا جائے، جبکہ صوبے کے عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبے اور گورننس کے معاملات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بہتر تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکومت ان شعبوں میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔













