سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پولوشن انفورسمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری اور خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کے لیے جامع روڈ میپ منظور کر لیا گیا۔
لاہور میں ہونے والے اجلاس میں پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی، انفورسمنٹ اقدامات اور ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے انقلابی فیصلے
اجلاس میں ہڈیارہ ڈرین، سلاٹر ہاؤسز، ڈسپوزلز، نالوں اور مختلف آلودگی پھیلانے والے شعبوں سے متعلق اصلاحاتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران آلودگی پھیلانے والے ساڑھے 4 ہزار جبکہ صرف ایک ہفتے میں 550 یونٹس مسمار کیے گئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھی جائے گی، جبکہ اسپتالوں کے طبی فضلے کی ناقص تلفی پر سخت کارروائی ہوگی۔ انسینیریٹرز نہ رکھنے والے اسپتالوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں ویسٹ جنریٹنگ یونٹس کی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ 125 سلاٹر ہاؤسز اور 1500 پولٹری فارمز کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بیماری کے بعد پہلی بار منظر عام پر، اہم اجلاس کی صدارت
اجلاس میں سلاٹر ہاؤس ویسٹ مینجمنٹ، فیٹ میلٹنگ کے ایس او پیز پر عملدرآمد اور رہائشی علاقوں میں فیٹ میلٹنگ پر پابندی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یو سی سطح پر گرین پنجاب سرٹیفکیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے کلائمیٹ واچ اور فیلڈ انفورسمنٹ نظام جاری رہے گا۔

اجلاس میں پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے، کباڑیوں کی رجسٹریشن اور ویسٹ کو ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ ماڈل کے تحت ری سائیکل کرنے کی تجاویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔
حکام کے مطابق آبپاشی محکمہ نالوں سے ساڑھے 5 لاکھ پلاسٹک بیگز نکال چکا ہے، جبکہ ماحول دوست اقدامات کے فروغ کے لیے پلاسٹک فری برانڈز کو ایوارڈز دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
کمیٹی نے پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ، انفورسمنٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کے جامع روڈ میپ کی منظوری دے دی۔














