پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور شدید انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں غزہ کی انسانی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن بورڈ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی کوششیں قابض حکام کے غیرقانونی اقدامات کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امن بورڈ نے اہم اقدامات کیے ہیں اور جنگ بندی سے پہلے کے مقابلے میں انسانی اشاریوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام روکنے میں ناکام ہو چکی، فلسطین کا 2 ریاستی حل ہی واحد آپشن ہے، پاکستان
تاہم یہ پیش رفت اس حقیقت کے باعث بے معنی ہو جاتی ہے کہ تقریباً 2 کروڑ افراد اب بھی انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سرحدی گزرگاہیں، بشمول رفح کراسنگ، کو کھولا جائے اور امداد، تجارتی سامان اور طبی انخلا کے لیے مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔
UN Security Council Debates Gaza Ceasefire Violations | Asia One News#Asiaone #asiaonenews #Gaza #UN #UNSC #Israel #MiddleEast #HumanRights #WorldNews pic.twitter.com/PLJ2gl5qaZ
— ASIA ONE NEWS (@AsiaOne_News) June 19, 2026
انہوں نے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، صرف آدھے اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔
روزانہ خوراک کی فراہمی 15 لاکھ سے کم ہو کر 6 لاکھ 78 ہزار رہ گئی ہے، جو 50 فیصد سے زیادہ کمی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناقص صفائی اور گنجان آبادی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، جبکہ 10 لاکھ سے زائد بچے بے گھری، غذائی قلت اور صحت و تعلیم کی سہولیات سے محرومی کا شکار ہیں، جو ایک پوری نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن، وزیراعظم شہباز شریف کا بورڈ آف پیس سے خطاب
پاکستان نے غزہ کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اور طبی عملے پر حملے فوری بند کیے جائیں اور غیرقانونی حراستوں کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو غزہ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔
ان کے مطابق، منظور شدہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد اقوام متحدہ سلامتی کونسل قرارداد 2803 کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔













