انگلیاں چٹخانے کی عادت، بے ضرر یا خطرناک؟

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلیوں کے جوڑ چٹخانے کی آواز بہت سے لوگوں کو پسند آتی ہے، جبکہ بعض افراد اسے ایک بری عادت سمجھتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ مسلسل انگلیاں چٹخانے سے گٹھیا یا جوڑوں کی کوئی بیماری لاحق ہوسکتی ہے، لیکن سائنسی تحقیق اس خدشے کی تائید نہیں کرتی۔

امریکی ڈاکٹر ڈونلڈ انگر نے قریباً 50 سال تک صرف بائیں ہاتھ کی انگلیاں روزانہ چٹخائیں اور دائیں ہاتھ کو اس عادت سے محفوظ رکھا۔ 72 برس کی عمر میں دونوں ہاتھوں کے ایکسرے سے معلوم ہوا کہ کسی ہاتھ میں گٹھیا نہیں تھا اور دونوں میں کوئی نمایاں فرق بھی نہیں تھا۔

مزید پڑھیں:انگلینڈ کے فاسٹ بولر جان ٹرنر 25 برس کی عمر میں کرکٹ سے ریٹائر، انجریز کو فیصلہ کی وجہ قرار دے دیا

چٹاخ کی آواز آتی کہاں سے ہے؟

انگلیوں کے جوڑوں میں ایک چکنا سیال موجود ہوتا ہے جسے سینوویئل فلوئیڈ کہتے ہیں۔ جب انگلی کو کھینچا یا موڑا جاتا ہے تو جوڑ کے اندر دباؤ کم ہوتا ہے اور سیال میں تحلیل شدہ گیسیں بلبلوں کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ انہی بلبلوں کے اچانک بننے اور ختم ہونے سے مخصوص ’چٹاخ‘ کی آواز پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ آواز 83 ڈیسی بل تک بلند ہوسکتی ہے، یعنی قریب سے گزرنے والے ڈیزل ٹرک جتنی تیز۔

کیا انگلیاں چٹخانے سے گٹھیا ہوتا ہے؟

اب تک کی تحقیقات کے مطابق نہیں۔ متعدد مطالعات میں انگلیاں چٹخانے اور اوسٹیو آرتھرائٹس کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوا کہ اس عادت سے انگلیاں موٹی، کنڈرے ڈھیلے یا ہاتھ کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے۔

البتہ انگلی کو بہت زیادہ زور یا جھٹکے سے چٹخانے پر موچ یا چوٹ لگ سکتی ہے، اگرچہ ایسے واقعات کم ہوتے ہیں۔ اگر جوڑ چٹخانے کے ساتھ درد، سوجن یا حرکت میں دشواری ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: دورہ انگلینڈ میں بابر اعظم کو میڈیا سے دور رکھا جائے، راشد لطیف کا پی سی بی کو مشورہ

گردن چٹخانے میں احتیاط

ماہرین انگلیوں کے مقابلے میں گردن چٹخانے کو زیادہ سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہیں۔ گردن میں ریڑھ کی ہڈی، اہم اعصاب اور دماغ کو خون پہنچانے والی شریانیں موجود ہوتی ہیں، اس لیے زور سے یا غلط انداز میں گردن چٹخانے سے سنگین چوٹ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

کچھ لوگوں کو انگلیاں چٹخانے سے عارضی طور پر جوڑوں میں حرکت اور سکون محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی وجوہ پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

خلاصہ یہ کہ انگلیوں کا معمول کے مطابق چٹخانا عموماً بے ضرر ہے، مگر درد یا سوجن کی صورت میں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جبکہ گردن کو خود چٹخانے سے گریز بہتر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp