بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں ایپل کے سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس کی آئی فون پرزہ ساز فیکٹری سے خارج ہونے والے پانی کے باعث مبینہ آلودگی کے معاملے پر ریاستی صحت حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مقامی کسانوں نے شکایت کی ہے کہ آلودہ پانی ان کی زمینوں اور کنوؤں تک پہنچ گیا جس سے جلدی مسائل اور زرعی نقصان سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی بھارتی شہر ہوسور میں قائم ٹاٹا الیکٹرانکس کے پلانٹ کے خلاف یہ تنازع بھارت کی اس کوشش کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن گیا ہے جس کے تحت وہ آئی فون کی عالمی پیداوار کا بڑا مرکز بننے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف سے بچنے کے لیے ایپل نے 15 لاکھ آئی فون بھارت سے امریکا کیسے منگوائے؟
تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ نے 25 مئی کو ٹاٹا فیکٹری کو مبینہ طور پر قریبی زرعی زمینوں کے زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے پر انتباہی نوٹس جاری کیا تھا۔
ٹاٹا الیکٹرانکس نے اپنے بیان میں کہا کہ آلودگی کنٹرول بورڈ نے فیکٹری کے اندر سے لیے گئے حالیہ پانی کے نمونوں کے تجزیے کے بعد اپنی جانچ بند کر دی کیونکہ ان میں کسی قسم کی آلودگی کے شواہد نہیں ملے۔

دوسری جانب سرکاری دستاویزات کے مطابق مقامی صحت حکام نے مئی کے آخر سے کسانوں کی شکایات کے بعد اپنی الگ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ 27 مئی کو ایک سرکاری طبی افسر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے پانی سے شدید بدبو پھیل رہی ہے اور پانی جانوروں کے پینے کے قابل نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ’بھارت میں آئی فون کی پروڈکشن نہیں چاہتا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایپل کے سی ای او کو واضح پیغام
خط کے مطابق ٹاٹا الیکٹرانکس کا گندا پانی قریبی زرعی زمینوں میں جمع ہو رہا ہے اور کنوؤں کے صاف پانی کو آلودہ کر رہا ہے، جبکہ مقامی افراد میں جلد سے متعلق مسائل کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
صحت حکام کی جانب سے کھیتوں سے لیے گئے 2 پانی کے نمونوں میں ای کولی بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی، جو عام طور پر سیوریج اور فضلے سے آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق مزید ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

ٹاٹا گروپ ایپل کے اہم بھارتی سپلائرز میں شامل ہے اور چین سے باہر آئی فون کی پیداوار منتقل کرنے کی ایپل کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق 2026 میں دنیا کے تقریباً 26 فیصد آئی فون بھارت میں تیار کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ 4 سال قبل یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
کسانوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی نے ان کی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے اور بعض زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔ ایک کسان کے مطابق اگر وہ اس پانی سے بیج بوتے ہیں تو پودے اگنے کے بعد جلد ہی مرجھا کر ختم ہو جاتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق وہ آزادانہ طور پر کسانوں کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
معاملہ اس وقت کشیدہ ہو گیا جب کسانوں کے ایک گروپ کا ایک شخص فیکٹری کی حدود میں داخل ہو کر مبینہ گندے پانی کے تالاب کی تصاویر لینے لگا، جس پر ایک سیکیورٹی گارڈ نے گاڑی سے بندوق نکال کر اپنے کندھے پر رکھ لی۔ کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گولی مار دو، جس کے بعد یہ کشیدگی ختم ہو گئی۔














