کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک کو درپیش شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقتصادی پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت کئی دہائیوں پر محیط سخت کمیونسٹ معاشی نظام میں پہلی مرتبہ نمایاں آزاد منڈی (فری مارکیٹ) اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کیوبا کی امریکا کو سخت وارننگ، فوجی کارروائی ہوئی تو ’خونریزی‘ ہوگی
رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیوبا کو امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بڑھتے ہوئے سفارتی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اصلاحاتی منصوبے کے تحت نجی شعبے کو مختلف کاروباری سرگرمیوں میں زیادہ آزادی دی جائے گی جبکہ بیرونِ ملک مقیم کیوبن شہریوں کی سرمایہ کاری کو ملک میں لانے کے لیے نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت نجی رہائشی منصوبوں (پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ) کی راہ بھی ہموار کی جائے گی جبکہ متعدد سرکاری اداروں کو بتدریج نجی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جہاں حصص (شیئرز) اور ایکویٹی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جا سکے گی۔
مالیاتی شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے پہلی مرتبہ نجی بینکوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی حالانکہ اب تک کیوبا کا بینکاری نظام مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس سے اختتامی خطاب میں کہا کہ ملک نے طویل عرصے سے غیر منصفانہ اور ناقابلِ برداشت دباؤ کا سامنا کیا ہے جس میں اب فوجی کارروائیوں کے خدشات کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیوبا کے معاشی مسائل صرف بیرونی پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی بیوروکریسی، سست فیصلہ سازی اور سخت سرکاری ضوابط نے بھی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
صدر دیاز کانیل نے اعتراف کیا کہ ان اصلاحات کو کمیونسٹ پارٹی کے سخت گیر حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم ان کے بقول یہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا
رپورٹ کے مطابق بیرونی دباؤ بھی ان اصلاحات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیوبا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایندھن کی ترسیل روکنے اور تجارتی پابندیاں برقرار رکھنے جیسے اقدامات کیے جبکہ یورپی یونین نے بھی صدر دیاز کانیل اور فوج کے زیر انتظام کاروباری ادارے گروپو ڈی ایڈمنسٹریسیون ایمپریساریل ایس اے کے خلاف پابندیوں کی قرارداد منظور کی جس میں منظم جبر کا الزام عائد کیا گیا۔














