کیوبا کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کیوبا کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی تو اس کے نتیجے میں ’خونریزی‘ ہوگی اور خطے کے امن و استحکام پر ناقابلِ اندازہ اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں:امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر
یہ بیان ایک امریکی رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کر لیے ہیں اور مبینہ طور پر امریکی بحری اڈے گوانتانامو بے، امریکی جنگی جہازوں اور فلوریڈا کے شہر کی ویسٹ کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔ کیوبا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ممکنہ مداخلت کے لیے جواز پیدا کر رہا ہے۔
کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہر خودمختار ملک کی طرح کیوبا کو بھی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ادھر ہوانا میں شہریوں نے بھی کسی ممکنہ حملے کی صورت میں مزاحمت کے عزم کا اظہار کیا۔ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ شدید معاشی مشکلات اور ایندھن کے بحران کے باوجود کیوبا اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مزید پڑھیں:سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا
امریکا اور کیوبا کے درمیان کشیدگی حالیہ دنوں میں مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف سابق کیوبن رہنما کاسترو پر 1996 میں انسانی امدادی تنظیم کے طیارے مار گرانے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی شدت قرار دیا جا رہا ہے۔














