سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے کیوبا کا غیر معمولی دورہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی پیغام کیوبن قیادت تک پہنچایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات پر سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے کیوبا کو “بنیادی تبدیلیاں” کرنا ہوں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رشیا ٹوڈے‘ کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ہوانا میں کیوبن حکام سے ملاقاتیں کیں، جو 1950 کی دہائی کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد کسی بھی سی آئی اے سربراہ کا پہلا دورۂ کیوبا قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کیوبا کی وزارت داخلہ نے اس غیر اعلانیہ دورے کی تصدیق کی جبکہ بعد ازاں سی آئی اے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تصاویر جاری کرتے ہوئے دورے کا اعتراف کیا۔

یہ بھی پڑھیں:’ناکام ملک‘ کیوبا نے مدد طلب کی ہے، امریکا اس سے مذاکرات کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

نام ظاہر نہ کرنے والے ایک امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ جان ریٹکلف نے کیوبن قیادت کو صدر ٹرمپ کا یہ پیغام پہنچایا کہ امریکا اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات پر سنجیدہ روابط کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے کیوبا کو بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

امریکی حکام کے مطابق ملاقاتوں میں انٹیلی جنس تعاون، اقتصادی استحکام اور سیکیورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ کیوبا مغربی نصف کرے میں امریکا کے مخالف عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنوری میں کیوبا کے لیے تیل کی ترسیل پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے باعث ملک میں شدید ایندھن بحران اور بجلی کی بندشیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں صرف ایک روسی آئل ٹینکر کیوبا پہنچا تھا۔

کیوبا کے وزیر توانائی ونسینتے ڈی لا او لیوی نے کہا ہے کہ ملک کے ایندھن کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کو کیوبا پر حملے کا ‘گرین سگنل’، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لائی گئی قرارداد مسترد کردی

رپورٹ کے مطابق امریکا نے کیوبا سے روس، چین، ایران اور فلسطین نواز مسلح گروپوں سے تعلقات محدود کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہوانا کا دورہ کرنے والے امریکی وفد نے مبینہ طور پر کیوبا پر زور دیا تھا کہ وہ سوشلسٹ نظام سے نکل کر مارکیٹ بیسڈ معیشت کی طرف جائے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے۔

دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باوجود ملک کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے 100 ملین ڈالر انسانی امداد کی پیشکش کو “متضاد اور حیران کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیاں دراصل کیوبا کے عوام کے خلاف اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے سینٹرل کنٹریکٹس: کئی کرکٹرز کی چھٹی، ڈومیسٹک پرفارمرز کی انٹری متوقع

مُکّا مار کے دیواریں توڑنے والا انسان بردار روبوٹ، چین کی نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا

بلاول بھٹو زرداری کا دورہ کوئٹہ، دورہ میں کیا خاص ہے؟

بیجنگ سمٹ: خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، سرمایہ کاروں کا مثبت رجحان

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل ترانہ جاری، شکیرا نے رائلٹی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کردیا

ویڈیو

لاہور کے 100 سالہ پرانا اچھرہ بازار کو ماڈل بازار بنا دیا گیا

ترسیلات زر میں اضافہ معیشت کو کتنا بہتر بنا سکتا ہے؟ کراچی کے کاروباری افراد کی آراء

پاک چین اقتصادی تعلقات میں نئی روح: اربوں ڈالرز کے معاہدے اور مشترکہ اکنامک ہیڈ کوارٹر کا قیام

کالم / تجزیہ

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز

کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟