امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے کیوبا کا غیر معمولی دورہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی پیغام کیوبن قیادت تک پہنچایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات پر سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے کیوبا کو “بنیادی تبدیلیاں” کرنا ہوں گی۔
Havana, Cuba pic.twitter.com/7S7TtJPyf5
— CIA (@CIA) May 14, 2026
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رشیا ٹوڈے‘ کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ہوانا میں کیوبن حکام سے ملاقاتیں کیں، جو 1950 کی دہائی کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد کسی بھی سی آئی اے سربراہ کا پہلا دورۂ کیوبا قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیوبا کی وزارت داخلہ نے اس غیر اعلانیہ دورے کی تصدیق کی جبکہ بعد ازاں سی آئی اے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تصاویر جاری کرتے ہوئے دورے کا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’ناکام ملک‘ کیوبا نے مدد طلب کی ہے، امریکا اس سے مذاکرات کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
نام ظاہر نہ کرنے والے ایک امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ جان ریٹکلف نے کیوبن قیادت کو صدر ٹرمپ کا یہ پیغام پہنچایا کہ امریکا اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات پر سنجیدہ روابط کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے کیوبا کو بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
امریکی حکام کے مطابق ملاقاتوں میں انٹیلی جنس تعاون، اقتصادی استحکام اور سیکیورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ کیوبا مغربی نصف کرے میں امریکا کے مخالف عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکتا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنوری میں کیوبا کے لیے تیل کی ترسیل پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے باعث ملک میں شدید ایندھن بحران اور بجلی کی بندشیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں صرف ایک روسی آئل ٹینکر کیوبا پہنچا تھا۔
کیوبا کے وزیر توانائی ونسینتے ڈی لا او لیوی نے کہا ہے کہ ملک کے ایندھن کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کو کیوبا پر حملے کا ‘گرین سگنل’، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لائی گئی قرارداد مسترد کردی
رپورٹ کے مطابق امریکا نے کیوبا سے روس، چین، ایران اور فلسطین نواز مسلح گروپوں سے تعلقات محدود کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہوانا کا دورہ کرنے والے امریکی وفد نے مبینہ طور پر کیوبا پر زور دیا تھا کہ وہ سوشلسٹ نظام سے نکل کر مارکیٹ بیسڈ معیشت کی طرف جائے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے۔

دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باوجود ملک کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے 100 ملین ڈالر انسانی امداد کی پیشکش کو “متضاد اور حیران کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیاں دراصل کیوبا کے عوام کے خلاف اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔














