امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں کم از کم 20 آئل ٹینکرز نے اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو عبور کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی ٹرانزٹ فیس معطل کر دی
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق بحری تجارت پر نظر رکھنے والے ادارے کپلر کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد اب بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے جب روزانہ 100 سے زائد جہاز و آئل ٹینکرز اس راستے سے گزرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 25 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جن میں آئل ٹینکروں کے علاوہ مال بردار کنٹینر اور دیگر تجارتی جہاز بھی شامل تھے۔
بحری آمدورفت میں یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی بحریہ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کر دی جبکہ ایران نے معاہدے کے تحت 60 روز کے لیے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بغیر ٹول ٹیکس ادا کیے گزرنے کی اجازت دے دی۔
مزید پڑھیے: آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل کھل جائےگی، کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران اب تک معاہدے کی اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے۔
کپلر کے کموڈیٹی ریسرچ ڈائریکٹر میٹ اسمتھ کے مطابق بحری ٹریفک دونوں سمتوں میں تقریباً متوازن رہی، جہاں 13 جہاز مغرب سے مشرق جبکہ 12 جہاز مشرق سے مغرب کی جانب روانہ ہوئے۔
ادارے کے مطابق سعودی عرب کے 3 اور متحدہ عرب امارات کے ایک سپر ٹینکر نے بھی آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔ یہ ویری لارج کروڈ کیریئرز کہلاتے ہیں جو 2 ملین بیرل تک خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کپلر کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اپنی شناختی سگنلز (ٹرانسپونڈرز) بند رکھنے والے ایرانی سپر ٹینکر اب دوبارہ انہیں فعال کر رہے ہیں۔ جمعہ کو خام تیل سے لدے ایران کے 5 سپر ٹینکر خطے سے روانہ ہوتے ہوئے بھی دیکھے گئے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات معمول کی جانب لوٹ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 18 جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے پر چلے جبکہ صرف ایک جہاز نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے متعین کردہ راستے کو استعمال کیا۔ باقی 6 جہازوں کے راستوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کا انتظام کس طریقے سے کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق 60 روزہ ٹول فری مدت ختم ہونے کے بعد ایران، عمان اور خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرے گا تاکہ اس عالمی بحری گزرگاہ کے انتظامی نظام پر اتفاق کیا جا سکے۔ اس سے یہ امکان بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ ٹول فیس عائد کی جا سکتی ہے۔













