ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آر آئی جی سی) نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اس پیشرفت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان، وفاقی وزیر پیٹرولیم
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ حالیہ صورتحال اور بعض اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
Meanwhile, JD Vance to Fox News:
We are not seeing any evidence that the Iranians are still closing down the Strait of Hormuz. https://t.co/1Qd11dEXIj pic.twitter.com/mqfADgZq88
— Clash Report (@clashreport) June 20, 2026
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ موجود ہے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Following the Iranian announcement of the closure of the Strait of Hormuz, Iranian Foreign Ministry Spokesperson Esmail Baghaei told Iran’s state-backed news outlet IRNA that an Iranian delegation is indeed traveling to Switzerland. Per the report, the delegation is traveling to… pic.twitter.com/z1ZMsmYEVU
— OSINTdefender (@sentdefender) June 20, 2026
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ضروری ہے، تاہم امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی اعلان اور امریکا کی جانب سے مذاکرات کی خواہش ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف کشیدگی موجود ہے جبکہ دوسری جانب فریقین کے درمیان بات چیت کے امکانات بھی برقرار ہیں۔













