امریکا اور ایران کے درمیان ایک روزہ تعطل کے بعد امن مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں بدستور جاری ہیں۔
یہ مذاکرات ابتدائی طور پر 60 روزہ مدت کے لیے طے کیے گئے ہیں، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔
یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان کو طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (ایم او یو) کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد جاری علاقائی تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے محفوظ راہ ہموار کرنا ہے۔
برگن اسٹاک مذاکرات کے لیے ‘قابلِ اعتماد مقام’ قرار
سوئس وفاقی محکمہ خارجہ نے ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ برگن اسٹاک ریزورٹ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات کے لیے ایک ’پرسکون اور قابلِ اعتماد مقام‘ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
تاہم روایتی رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے سوئس حکام نے فی الحال مذاکرات میں شریک شخصیات کے ناموں یا زیرِ بحث آنے والے اہم ترین نکات کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مرحلہ وار آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، ایران کا اعلان
عالمی خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن مفاہمتی یادداشت پر سنجیدگی سے عمل درآمد کے لیے تیار ہے تو تہران بھی اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر مکمل آمادہ ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ’ہم مرحلہ وار آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ دوسرا فریق بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے‘۔
مذاکرات اچانک معطل ہونے کے بعد بحال
یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات ایک روز قبل اچانک منسوخ کر دیے گئے تھے اور اس کی کوئی واضح وجہ بھی سامنے نہیں آئی تھی۔
اسی روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جنیوا کا اپنا مجوزہ دورہ اچانک مؤخر کر دیا تھا، جس کے بعد اس معاہدے کے مستقبل سے متعلق عالمی سطح پر شدید شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔
امریکی اور ایرانی وفود کی سوئٹزرلینڈ آمد متوقع
میڈیا رپورٹس کے مطابق قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت دیگر اعلیٰ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ہفتہ کے روز سوئٹزرلینڈ پہنچنے والے ہیں، اگرچہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر ان سفری انتظامات میں اب بھی آخری لمحے میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
امن کوششوں کو درپیش بڑے چیلنجز
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ فضائی حملوں نے مجوزہ امن معاہدے کے استحکام اور پائیداری کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اسرائیل کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات اور موجودہ کٹھن حالات میں بھی فریقین کی جانب سے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک مثبت اور مضبوط اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ سوئٹزرلینڈ نے مذاکرات کے تسلسل کی تصدیق کر کے افواہوں کا بازار ٹھنڈا کر دیا ہے، لیکن بات چیت کے اصل ایجنڈے، پسِ پردہ شرکا اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے تفصیلات ابھی تک خفیہ رکھی گئی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں برگن اسٹاک میں ہونے والی ہر پیش رفت پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔













